بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ بعد سلام مسنون
آنمخدوم کا خط بعد واپسی از امرتسر مجھ کو ملا ۔ آنمخدوم کچھ تفکر اور تردّد نہ کریں اور یقینا سمجھیں کہ وجود مخالفوں کا حکمت سے خالی نہیں۔ بڑی برکات ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا معاندوں کے عنادوں پر ہی موقوف ہے۔ اگر دنیاوی معاند اور حاسد اور موذی لوگ نہ ہوتے تو بہت سے اسرار اور برکات مخفی رہ جاتے۔ کسی نبی کے برکات کامل طور پر ظاہر نہیں ہوتے جب تک وہ کامل طور پر ستایا نہیں گیا اگر لوگ خدا کے بندوں کو کہ جو اُس کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں یوں ہی اُن کی شکل ہی دیکھ کر قبول کر لیتے تو بہت عجائبات تھے کہ اُن کا ہرگز دنیا میں ظہور نہ ہوتا۔
(تاریخ ۲۶؍ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۷؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ)
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ہذا آنمخدوم کا عنایت نامہ بذریعہ محمد شریف صاحب مجھ کو ملا۔ سو آپ کو میں اطلاع دیتا ہوں کہ میں نے حصہ سوئم و چہارم بخدمت علماء دہلی بھیج دیئے ہیں۔ آپ نے جو لکھا ہے کہ چوتھے حصہ کے صفحہ ۴۹۶ پر مخالف اعتراض کرتے ہیں آپ نے مفصل نہیں لکھا کہ کیا اعتراض کرتے ہیں۔ صرف آپ نے یہ لکھا ہے کہ یامریم اسکن میں نحوی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ اسکن کی جگہ اسکنی چاہئے تھا۔ سو آپ کو مطلع کرتا ہوں کہ جس شخص نے ایسا اعتراض کیا ہے اس نے خود غلطی کھائی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ نحو اور صرف سے آپ ہی بے خبر ہے کیونکہ عبارات کا سیاق دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ مریم سے مریم اُم عیسیٰ مراد نہیں ہے اور نہ آدم سے آدم ابولبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں اُن ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہے بلکہ ہر یک جگہ یہی عاجز مراد ہے اب جب کہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد نہیں ہے بلکہ مذکر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لئے صیغہ مذکر ہی لایا جائے یعنی یامریم اسکن کہا جائے نہ یہ کہ یا مریم اسکنی۔ ہاں اگر مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد ہوتی تو پھر اس جگہ اسکنی آتا لیکن اس جگہ