اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن شریف میں کمال توحید کا یہی درجہ بیان کیا گیا ہے کہ محب صادق بوجہ استیلاء محبت اور شہود عظمت محبوب حقیقی کی غیر کے وجود کو کالعدم خیال کرے نہ کہ فی الواقعہ غیر معدوم ہی ہو کیونکہ معدوم کو معدوم خیال کرنا ترقیات عشق اور محبت سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ سوعاشق صادق کے لئے توحید ضروری اور لابدی ہے کہ جو اُس کے کمال عشق کی علامت ہے۔ یہی توحید ہے کہ جو اُس کا شہود بجز ایک کے نہ ہو نہ یہ کہ عقلی طور پر بھی فی الواقعہ ہی موجود سمجھتا ہو کیونکہ وہ اپنے عقل میں ہو کر ایسی باتیں ہرگز منہ پر نہیں لاتا اور حق الیقین کے مرتبہ کے لحاظ سے جب دیکھتا ہے تو حقائق اشیاء سے انکار نہیں کر سکتا بلکہ جیسا کہ اشیاء فی الواقعہ موجود ہیں ایسا ہی اُن کی موجودیت کا اقرار رکھتا ہے اور چونکہ یہ توحید شہودی فنا کے لئے لازمی اور ضروری ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا ذکر اپنے پاک کلام میں بسط سے فرمایا ہے اور نادان جب اُن بعض آیات کو دیکھتا ہے تو اس دھوکہ میں پڑ جاتا ہے کہ گویا وہ آیات توحید وجودی کی طرف اشارہ ہے اور اس بات کونہیں سمجھتا کہ خداوند کے کلام میں تناقص نہیں ہو سکتا۔ جس حالت میں اُس نے صدہا آیات بینّات اور نصوص صریحہ میں اپنے وجود اور مخلوق کے وجود میں امتیاز کلی طور پر ظاہر کر دیا ہے اور اپنے مصنوعات کو موجود واقعی قرار دے کر اپنی صانعیت اُس سے ثابت کی ہے اور اپنے غیر کو شقی اور سعید کی قسموں میں تقسیم کیا ہے اور بعض کے لئے خلود جنت اور بعض کے لئے خلود جہنم قرار دیا ہے اور اپنے تمام نبیوں اور مرسلوں اور صدیقوں کو بندہ کے لفظ سے یاد کیا ہے اور آخرت میں اُن کی عبودیت دائمی غیر منقطع کا ذکر فرمایا ہے تو پھر ایسے صاف صاف اور کھلے کھلے بیان کے مقابلہ پر کہ جو بالکل عقلی طریق سے بھی مطابق ہے بعض آیات کی کسی اور طرح پر معنی کرنا صرف اُن لوگوں کا کام ہے کہ جو راہ راست کے طالب نہیں۔ بلکہ آرام پسند اور آزاد طبع ہو کر صرف الحاد اور زندقہ میں اپنی عمر بسر کرنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر انسان صرف عقل کی رُو سے بھی نظر کرے تو وہ فی الفور معلوم کرے گا کہ مشت خاک کو حضرت پاک سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ انسان دنیا میں آ کر بہت سے مکروہات اپنی مرضی کے برخلاف دیکھتا ہے اور بہت سے مطالب باوجود دعا اور تضرع کے بھی حاصل نہیں ہوتی۔ پس اگر انسان فی الحقیقت خدا ہی ہے تو کیوں صرف کن فیکون کے اشارہ سے اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کر لیتا اور کیوں صفات الوہیت اس میں محقق نہیں ہوتیں کیا کوئی حقیقت اپنے لوازم ذاتی سے معرا ہو سکتی ہے۔