پس اگر انسان کی حقیقت الوہیت ہے تو کیوں آثار الوہیت اس سے ظاہر نہیں ہوتے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام چالیس بر تک روتے رہے مگر اپنے فرزند عزیز کا کچھ پتہ نہ ملا۔ مگر اسی وقت کہ جب خدا نے چاہا۔ پس جب کہ صفات الوہیت نبیوں میں ظاہر نہیں ہوئے تو اور کون ہے جس میں ظاہر ہوں گے اور جب کہ اب تک کوئی ایسا مرد پیدا نہیں ہوا کہ جس نے میدان میں آ کر تمام مخالفوں اور موافقوں کے سامنے الوہیت کی طاقتیں دکھلائی ہوں تو پھر آئندہ کیونکر امید رکھیں۔ ماسوا اس کے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ انسان سے کیسے کیسے بُرے اور ناپاک کام صادر ہوتے ہیں۔ پس کیا عقل کسی عاقل کی تجویز کر سکتی ہے کہ یہ سب ناپاکیاں خدا کی روح کر سکتی ہے۔ پھر علاوہ اس کے مخلوق کے وجود سے انکار کرنا دوسرے لفظوں میں اس بات کا دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ قادر مطلق نہیں کیونکہ اگر اس کو قادر مطلق مان لیا ہے تو پھر اُس کی قدرت تامہ کا اسی بات پر ثبوت موقوف ہے کہ جو چاہے پیدا کرے نہ کہ ہندؤوں کے اوتاروں کی طرح ہر جگہ بُرے بھلے کام کرنے کے لئے آپ ہی جنم لیتا رہے۔ سو خدا کی ذات سے سلب قدرت کرنا اور اُس کو طرح طرح کے گناہوں اور پاپوں اور بے ایمانیوں کا مورد ٹھہرانا اور انواع اقسام کی جہالتوں کو اُس پر روا رکھنا اسی توحید وجودی کا نتیجہ ہے جس کو وجودی لوگ نہیں سمجھتے۔ عقلمند انسان کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ایسا دعویٰ ہرگزنہیں کرتا جس دعویٰ کا ثبوت اس کے پاس موجود نہیں ہوتا۔ پس اگر یہ لوگ عاقل ہوتے تو ایسا دعویٰ کرنے سے متہاشی ہوتے۔ زیادہ تر خرابی ان میں یہ ہے کہ اُن کی زبان اُن کے فعل اور عمل پر غالب ہو رہی ہے۔ ذرا خیال کرتے اور انسانی ترقیات کو حال کے ذریعہ سے دیکھتے۔ نہ صرف قال کے ذریعہ سے تو یہ تمام اوہام اُن کے خود بخود اُٹھ جاتے مثلاً ایک عاقل سیاح کے پاس یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی سیاح فلاں جزیرہ میں پہنچتا ہے تو بجائے دو آنکھ کے اُس کی چار آنکھیں ہو جاتی ہیں اور منہ سے سنتا ہے اور کانوں کے ساتھ دیکھ سکتا ہے تو ایسی خلاف قیاس خبر پر صرف اسی حالت میں عقلمند یقین کرے گا