نہیں ہیں۔ جیسے ظاہر ہے کہ جب دن چڑھتا ہے اور لوگوں کی آنکھوں پر نور آفتاب کا استیلاء کرتا ہے تو باوجود اس کے کہ لوگ جانتے ہیں کہ ستارے اس وقت معدوم نہیں مگر پھر بھی بوجہ استیلاء اُس نور کے کہ ستاروں کو دیکھ نہیں سکتے۔ ایسا ہی استیلاء محبت اورعظمت اللہ کا محب صادق کی نظر میں ایسا ظاہر کرتا ہے کہ گویا تمام عالم بجز اس کے محبوب کے معدوم ہے اور اگرچہ عشق حقیقی میں یہ تمام انوار کامل اور اَتم طور پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی عشق مجازی کا مبتلا بھی اس غایت درجہ عشق پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنے معشوق کے غیر کو یہاں تک کہ خود اپنے نفس کو کالعدم سمجھنے لگتا ہے۔ چنانچہ منقول ہے کہ مجنون جس کا نام قیس ہے اپنے عشق کی آخری حالت میں ایسا دیوانہ ہو گیا کہ یہ کہنے لگا کہ میں آپ ہی لیلیٰ ہوں۔ سو یہ بات تو نہیں کہ فی الحقیقت وہ لیلیٰ ہی ہو گیا تھا بلکہ اس کا یہ باعث تھا کہ چونکہ وہ مدت تک تصور لیلیٰ میں غرض رہا۔ اس لئے آہستہ آہستہ اس میں خود فراموشی کا اثر ہونے لگا۔ ہوتے ہوتے اس کا استغراق بہت ہی کمال کو پہنچ گیا اور محویت کی اس حد تک جا پہنچا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جنون عشق سے انا الیلیٰ کا دعویٰ کرنے لگا اور یہ خیال دل میں بندہ گیا کہ فی الحقیقت میں ہی لیلیٰ ہوں۔ غرض غیر کو معدوم سمجھنا لوازم کمال عشق میں سے ہے اور اگر غیر فی الحقیقت معدوم ہی ہے تو پھر وہ ایسا امر نہیں ہے کہ جس کو استیلاء محبت اور جنون عشق سے کچھ بھی تعلق ہو اور غلبہ عشق کی حالت میں محویّت کے آثار پیدا ہو جانا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو انسان مشکل سے سمجھ سکے۔ شیخ مصلح الدین شیرازی نے خوب کہا ہے۔
نہ از چینم حکایت کن نہ از روم کہ دارم دلستانے اندریں بوم
چو روئے خوب او آید ببادم فراموشتم شود موجود و معدوم
اور پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
باتو مشغول و باتو ہم اہم دانہ تو بخشایش تو میخواہم
تا مرا از تو آگہی دادند بوجودت گرانہ خود اگاہم
اور خود وہ محویت کا ہی اثر تھا جس سے زلیخا کی سہیلیوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں۔