اسباب پرستی پر اس قدر جھک رہے ہیں کہ گویا وہ اپنے اسباب کو اپنا خدا سمجھ رہے ہیں اور یہ شرک دِق کی بیماری کی طرح ہے کہ جو اکثر نظروں سے مخفی اور محتجب رہتا ہے اور تیسری قسم شرک کی جو قرآن شریف میں بیان کی گئی ہے جس کے چھوڑنے پر تیسری قسم توحید کی موقوف ہے وہ نہایت ہی باریک ہے کہ بجز خاص بالغ نظروں کے کسی کو معلوم نہیں ہوتی اور بغیر افراد کامل کے کوئی اس سے خلاصی نہیں پاتا اور وہ یہ ہے کہ ماسوا اللہ کے یادداشت دل پر غالب رہنا اور اُن کی محبت اور اُن کی محبت یا عداوت میں اپنی اوقات ضائع کرنا اور اُن کی ناچیز ہستی کو کچھ چیز سمجھنا اور اس شرک کا چھوڑنا جس پر توحید کامل موقوف ہے۔ تب محقق ہوتا ہے کہ جب محب صادق پر اس قدر محبت اور محبت الٰہی کا استیلاء ہو جائے کہ اُس کی نظر شہود میں ہر یک موجود ماسوا اللہ موجود ہونے کے معدوم دکھائی دے۔ یہاں تک کہ اپنا وجود بھی فراموش ہو جائے اور محبوب حقیقی کا نور ایسا کامل طور پر چمکے سو اُس کے آگے کسی چیز کی ہستی اور حقیقت باقی نہ رہے اور اس توحید کا کمال اس بات پر موقوف ہے کہ ماسوا اللہ واقعی طور پر موجود تو ہو مگر سالک کی نظر عاشقانہ میں کہ جو محبت الٰہیہ سے کامل طور پر بھڑک گئی ہے وہ وجود غیر کا کالعدم دکھائی دے اور غلبہ محبت احدیتّ کی وجہ سے اس کے ماسوا کو منفی اور معدوم خیال کرے کیونکہ اگر وجود ماسوا کافی الحقیقت منفی اور معدوم ہی ہو تو پھر اس توحید درجہ سوئم کی تمام خوبی برباد ہو جائے گی وجہ یہ کہ ساری خوبی اس توحید درجہ سوئم میں یہ ہے کہ محبوب حقیقی کی محبت اور عظمت اس قدر دل پر استیلاء کرے کہ بوجہ غلبہ اس شہود تام کے دوسری چیزیں معدوم دکھائی دیں۔ اب اگر دوسری چیزیں فی الحقیقت معدوم ہی ہیں تو پھر اس استیلاء محبت اور غلبہ شہود عظمت کی تاثیر کیا ہوئی اور کون کمال اس توحید میں ثابت ہوا کیونکہ جو چیز فی الواقعہ معدوم ہے اس کو معدوم ہی خیال کرنا یہ ایسا امر نہیں ہے کہ جو استیلاء محبت پر موقوف ہو بلکہ محبت اور شہود عظمت تامہ کی کمالیت اسی حالت میں ثابت ہوگی کہ جب عاشق دلدادہ محض استیلاء عشق کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے اپنے معدوم کے ماسوا کو معدوم سمجھے اور اپنے معشوق کے غیر کو کالعدم خیال کرے گو عقل شرع اُس کو سمجھاتی ہوں کہ وہ چیزیں حقیقت میں معدوم