یہی ٹھہراتا ہے کہ تا عبودیت پر لوگوں کو قائم کرے اور خدا نے اپنی کتاب عزیز میں اُن لوگوں پر لعنت کی ہے جنہوں نے مسیح اور بعض دوسرے نبیوں کو خدا سمجھا تھا۔ پس کیونکر وہ لوگ رحمت کے مستحق ہو سکتے ہیں جنہوں نے تمام جہان کو یہاں تک کہ ناپاک اور پلید روحوں کو بھی کہ جو شرارت اور فسق اور فجور سے بھری ہیں خدا سمجھ لیا ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے توحید تین مرتبہ پر منقسم ہے۔ ایک ادنیٰ اور ایک اوسط اور ایک اعلیٰ۔ تفصیل اُس کی یہ ہے کہ ادنیٰ مرتبہ توحید کا کہ جس کے بغیر ایمان متحقق ہو ہی نہیں سکتا۔ نفی شرک رکھا ہے یعنی اس شرک سے بیزار ہونا کہ جو مشرکین محض ظلم اور زیادتی کی راہ سے مخلوق چیزوں کو خدا کے کاموں میں شریک سمجھتے ہیں یعنی کسی قوم نے سورج اور چاند یا آگ اور پانی کو دیو تے قرار دے لیا ہے اور اُن سے مرادیں مانگتے ہیں اور کسی قوم نے بعض انسانوں کو خدائی کا مرتبہ دے رکھا ہے اور خداوندکریم کی طرح اُن کو قادر مطلق اور قاضی الحاجات خیال کر رکھا ہے۔ سو یہ شرک صریح اور ظلم بدیہی ہے کہ جو ہر یک عاقل کو یہ ہدایت نظر آتا ہے لیکن دوسری قسم شرک کی جو قرآن شریف میں بیان کی ہے جس کو چھوڑنے پر توحید کی دوسری قسم موقوف ہے وہ اس کی نسبت کچھ باریک ہے کہ عوام کالانعام اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ یعنی اسباب کو کارخانہ قدرت حضرت احدیّت میں شریک سمجھنا اور فاعل اور مؤثر حقیقی خدا ہی کو نجاننا۔ مثلاً ایک دوکاندار مسلمان جب عین ہجوم خریداروں کے وقت میں بانگ نماز جمعہ سنتا ہے تو دل میں خیال کرتا ہے کہ اگر میں اس وقت جمعہ کی نماز کے لئے اپنی دکان بند کر کے گیا تو مرا بڑا ہی ہرج ہوگا۔ جمعہ کی نماز میں خطبہ سننے اور نماز پڑھنے اور پھر شاید وعظ سننے میں ضرور دیر لگے گی اور اس عرصہ میں سب خریدار چلے جائیں گے اور جو آمدنی اب یہاں ٹھہرے رہنے سے متصور ہے اُس سے محروم رہوں گا۔ سو یہ شرک فی الاسباب ہے کیونکہ اگر وہ دوکاندار جانتا کہ مرا ایک رازق قادر و متصرف مطلق ہے جس کے ہاتھ میں تمام قبض و بسط رزق ہے اور اُس کی اطاعت کرنے میں کوئی نقصان عائد حال نہیں ہو سکتا اور اُس کے ارادہ کے برخلاف کوئی تدبیر و حیلہ رزق کو فراخ نہیں کر سکتا تو وہ اس شرک میں ہرگز مبتلا نہ ہوتا اور یہ قسم دوئم شرک کی چونکہ باریک ہے اس وجہ سے ایک عالم اس میں مبتلا ہو رہا ہے اور اکثر لوگ