اور پھر انسان کامل کی روح کو اُس کے آخری وقت پر مخاطب کر کے فرمایا یاایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃً مرضیۃ فادخلی فی عبادی و ادخلی جنتی۔ یعنی اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے ربّ کی طرف واپس چلا آ تو اُس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ سو میرے بندوں میں داخل ہو اور میرے بہشت میں اندر آ جا۔ ان دونوں آیات جامع البرکات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انسان کی روح کے لئے بندگی اور عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اسی عبودیت کی غرض سے وہ پیدا کیا گیا ہے بلکہ آیت مؤخر الذکر میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو انسان اپنی سعادت کاملہ کو پہنچ جاتا ہے اور اپنے تمام کمالات فطرتی کو پا لیتا ہے اور اپنی جمیع استعدادات کو انتہائی درجہ تک پہنچا دیتا ہے۔ اُس کو اپنی آخری حالت پر عبودیت کا ہی خطاب ملتا ہے اور فادخلی فی عبادی کے خطاب سے پکارا جاتا ہے۔ سو اب دیکھئے اس آیت سے کسی قدر بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا کمال مطلوب عبودیت ہی ہے اور سالک کا انتہائی مرتبہ عبودیت تک ہی ختم ہوتا ہے۔ اگر عبودیت انسان کے لئے ایک عارضی جامعہ ہوتا اور اصل حقیقت اس کی الوہیت ہوتی تو چاہئے تھا کہ بعد طے کرنے تمام مراتب سلوک کے الوہیت کے نام سے پکارا جاتا۔ لیکن فادخلی فی عبادی کے لفظ سے ظاہر ہے کہ عبودیت اُس جہان میں بھی دائمی ہے۔ جو ابدالاباد رہے گی اور یہ آیت بآواز بلند پکار رہی ہے کہ انسان گو کیسے ہی کمالات حاصل کرے مگر وہ کسی حالت میں عبودیت سے باہر ہو ہی نہیں اور ظاہر ہے کہ جس کیفیت سے کوئی شَے کسی حالت میں باہر نہ ہو سکے وہ کیفیت اُس کی حقیقت اور ماہیت ہوتی ہے۔ پس چونکہ از روئے بیان واضح قرآن شریف کے انسان کے نفس کے لئے عبودیت ایسی لازمی چیز ہے کہ نہ نبی بن کر اور نہ رسول بن کر اور نہ صدیق بن کر اور نہ شہید بن کر اور نہ اس جہان اور نہ اُس جہان میں الگ ہو سکے۔ جو مہتر اور بہتر انبیا تھے۔ انہوں نے عبدہ و رسولہ ہونا اپنا فخر سمجھا تو اس سے ثابت ہے کہ انسان کی اصل حقیقت و ماہیت عبودیت ہی ہے الوہیت نہیں اور اگر کوئی الوہیت کا مدعی ہے تو بمقابلہ اس محکم اور بین آیت کے جو فادخلی فی عبادیہے۔ کوئی دوسری آیت ایسی پیش کرے کہ جس کا مفہوم فادخلی فی ذاتی ہو اور خود قرآن شریف اور جا بجا اپنے نزول کی حلت غائی بھی