حصہ اوّل و دوئم و سوئم روانہ ہو چکی ہیں۔ ایک خط دہلی کے علماء کی طرف اس اس خاکسار کو آیا تھا کہ مولوی محمد نے تکفیر کا فتویٰ بہ نسبت اس خاکسار کے طلب کیا ہے۔ نہایت رفق اور ملائمیت سے رہنا چاہئے۔ آج حضرت خداوندکریم کی طرف سے الہام ہوا۔ یا عبدالرافع انی رافعک الی۔ انی معزک لامانع لما اعطی۔ شاید پرسوں مکرر الہام ہوا تھا۔ یایحی خذالکتاب بقوۃ۔ خذھا ولا تخف سنعیدھا سیرتھا الاولٰی۔ یہ آخری فقرہ پہلے بھی الہام ہو چکا ہے۔ (۱۵؍ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۶؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ) مکتوب نمبر۴۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ بعد ہذا آپ نے جو قول وحدت وجود کی نسبت استفسار فرمایا ہے اُس میں یہ بہتر تھا کہ اوّل آپ اُن وساوس اور اوہام کو لکھتے جن کو قائلین اس قول سقیم کے بطور دلیل آپ کے روبرو پیش کرتے ہیں کیونکہ اس عاجز نے ہر چند ایک مدت دراز تک غور کی اور کتاب اللہ اور احادیث نبوی کو بتدبر و تفکر تمام دیکھا اور محی الدین عربی وغیرہ کی تالیفات پر بھی نظر ڈالی کہ جو اس طور کے خیالات سے بھرے ہوئے ہیں اور خود عقل خداداد کی رُو سے بھی خوب سوچا اور فکر کیا لیکن آج تک اس دعویٰ کی بنیاد پر کوئی دلیل اور صحیح حجت ہاتھ نہیں آئی اور کسی نوع کی برہان اس کی صحت پر قائم نہیں ہوئی بلکہ اس کے ابطال پر براہین قویہ اور حجج قطعیہ قائم ہوتے ہیں کہ جو کسی طرح اُٹھ نہیں سکتیں۔ اوّل بڑی بھاری دلیل مسلمانوں کے لئے بلکہ ہر یک کے لئے کہ جو حق پر قدم مارنا چاہتا ہے۔ قرآن شریف ہے کیونکہ قرآن شریف کی آیات محکمات میں بار بار اور تاکیدی طور پر کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ جو کچھ مافی السموات والارض ہے۔ وہ سب مخلوق ہے اور خدا اور انسان میں ابدی امتیاز ہے کہ جو نہ اس عالم میں اور نہ دوسرے عالم میں مرتفع ہوگی۔ اس جگہ بھی بندگی بیچارگی ہے اور وہاں بھی بندگی بیچارگی ہے۔ بلکہ اُس پاک کلام میں نہایت تصریح سے بیان فرمایا گیا ہے کہ انسان کی روح کے لئے عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اُس کی پیدائش کی عبودیت ہی علت غائی ہے۔ جیسا کہ فرمایا۔ وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون یعنی میں نے جن اور انس کو پرستش دائمی کے لئے پیدا کیا