اور قسم کا ظلم اور تعدی اس کے ہاتھ سے ظاہر ہوتا دیکھے یا کچھ اسباب اور اشیاء منہیات کے اُس کے مکان پر موجود پاوے تو جلد تر اپنے جامہ سے باہر نہ آوے اور اپنی دیرینہ خدمت اور ارادت کو ایک ساعت میں برباد نہ کرے بلکہ یقینا دل میں سمجھے کہ یہ ایک ابتلاہے کہ جو میرے لئے پیش آیا اور اپنی ارادت اور عقیدت میں ایک ذرّہ فتور پیدا نہ کرے اور کوئی اعتراض پیش نہ کرے اور خدا سے چاہے کہ اس کو اُس ابتلا سے نجات بخشے اور اگر ایسا نہیں تو پھر کسی نہ کسی وقت اُس کے لئے ٹھوکر درپیش ہے۔ جن پر خدا کی نظر لطف ہے اُن کو خدا نے ایک مشرب پر نہیں رکھا۔ بعض کو کوئی مشرب بخشا اور بعض کو کوئی اور اُن لوگوں میں ایسے بھی مشرب ہیں کہ جو ظاہری علماء کی سمجھ سے بہت دور ہیں۔ حضرت موسیٰ جیسے اولوالعزم مرسل خضر کے کاموں کو دیکھ کر سراسیمہ اور حیران ہوئے اور ہر چند وعدہ بھی کیا کہ میں اعتراض نہیں کروں گا پر جوش شریعت سے اعتراض کر بیٹھے اور وہ اپنے حال میں معذور تھے اور خضر اپنے حال میں معذور تھا۔ غرض اس مشرب کے لوگوں کی خدمت میں ارادت کے ساتھ آنا آسان ہے مگر ارادت کو سلامت لے جانا مشکل ہے۔ بات یہ ہے کہ خدا کو ہر ایک زائر کا ابتلا منظور ہے تا وہ اُن پر اُن کی چھپی ہوئی بیماریاں ظاہر کرے۔ سو نہایت بدقسمت وہ شخص ہے کہ جو اُس ابتلا کے وقت تباہ ہو جائے۔ کاش! اگر وہ دور کا دور ہی رہتا تو اُس کے لئے اچھا ہوتا۔ ابوجہل کچھ سب سے زیادہ شریر نہ تھا۔ پر رسالتہ کے زمانہ نے اُس کا پردہ فاش کیا۔ اگر کسی بعد کی صدی میں کسی مسلمان کے گھر پیدا ہو جاتا تو شاید وہ خبث اُس کی چھپی رہتی۔ سو خبث امتحان ہی سے ظاہر ہوتی ہیں۔ بہتر ہے کہ آنمخدوم ابھی اس عاجز کی تکلیف کشی کے لئے بہت زور نہ دیں کہ کئی اندیشوں کا محل ہے۔ یہ عاجز معمولی زاہدوں اورعابدوں کے مشرب پر نہیں اور نہ اُن کی رسم اور عادت کے مطابق اوقات رکھتا ہے بلکہ اُن کے پیرایہ سے نہایت بیگانہ اور دور ہے۔ سیفعل اللّٰہ مایشاء اگر خدانے چاہا تو وہ قادر ہے کہ اپنے خاص ایماء سے اجازت فرماوے ہر یک کو اس جگہ کے آنے سے روک دیں اور جو پردہ غیب میں مخفی ہے اُس کے ظہور کے منتظر رہیں۔ باقی سب خیریت ہے۔ (۱۸؍جنوری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۸؍ ربیع الاوّل ۱۳۰۱ھ) مکتوب نمبر۴۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر صاحب سلمہ ۔ بعد سلام مسنون آنمخدوم کا خط آج امرتسر میں مجھ کو ملا۔ پانچ جلدیں