تلاش کرتے ہیں اور یہ بات اس جگہ نہیں۔ آپ کے مبلغ پچاس روپیہ عین ضرورت کے وقت پہنچے۔ بعض آدمیوں کے بے وقت تقاضا سے بالفعل پچاس روپیہ کی سخت ضرورت تھی دعا کے لئے یہ الہام ہوا۔ بحسن قبولی دعاء بنگر کہ چہ زود دعا قبول میکنم۔ ۳؍ جنوری ۱۸۸۴ء کو یہ الہام ہوا۔ ۶؍ تاریخ کو آپ کا روپیہ آ گیا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذالک۔ (۷؍ جنوری ۱۸۸۴ء ۔ ۷؍ ربیع الاوّل ۱۳۰۱ھ) مکتوب نمبر۴۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ بعد سلام مسنون آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ یہ عاجز اگرچہ بہت چاہتا ہے کہ آنمخدوم کے بار بار لکھنے کی تعمیل کی جائے مگر کچھ خداوندکریم ہی کی طرف سے ایسے اسباب آ پڑتے ہیں کہ رک جاتا ہوں۔ نہیں معلوم کہ حضرت احدیّت کی کیا مرضی ہے۔ عاجز بندہ بغیر اُس کی مشیت کے قدم اُٹھا نہیں سکتا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ کسی مکان پر جو یاد نہیں رہا یہ عاجز موجود ہے اور بہت سے نئے نئے آدمی جن سے سابق تعارف نہیں، ملنے کو آئے ہوئے ہیں اور آپ بھی ان کے ساتھ موجود ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور مکان ہے۔ اُن لوگوں نے اس عاجز میں کوئی بات دیکھی ہے جو اُن کو ناگوار گزری ہے سو اُن سب کے دل منقطع ہوگئے۔ آپ نے اُس وقت مجھ کو کہا کہ وضع بدل لو۔ مَیں نے کہا کہ نہیں بدعت ہے۔ سو وہ لوگ بیزار ہوگئے اور ایک دوسرے مکان میں جو ساتھ ہے جا کر بیٹھ گئے۔ تب شاید آپ بھی ساتھ ہیں۔ مَیں اُن کے پاس گیا تا اپنی امامت سے ان کو نماز پڑھاؤں پھر بھی اُنہوں نے بیزاری سے کہا کہ ہم نماز پڑھ چکے ہیں۔ تب اس عاجز نے اُن سے علیحدہ ہونا اور کنارہ کرنا چاہا اور باہر نکلنے کے لئے قدم اُٹھایا معلوم ہوا کہ اُن سب میں سے ایک شخص پیچھے چلا آتا ہے تو تقدیرات معلقہ کو مبدّل بھی کر دیتا ہے لیکن اندیشہ گزرتا ہے کہ خدانخواستہ وہ آپ ہی کا شہر نہ ہو۔ لوگوں کے شوق اور ارادت پر آپ خوش نہ ہوں۔ حقیقی شوق اور ارادت کو جو لغزش اور ابتلا کے مقابلہ پر کچھ ٹھہر سکے لاکھوں میں سے کسی ایک کو ہوتا ہے ورنہ اکثر لوگوں کے دل تھوڑی تھوڑی بات میں بدظنی کی طرف جھک جاتے ہیں اور پھر پہلے حال سے پچھلا حال اُن کا بدتر ہو جاتا ہے۔ صدق الارادت وہ شخص ہے کہ جو رابطہ توڑنے کیلئے جلد تر تیار نہ ہو جائے اور اگر ایسا شخص جس پر ارادت کبھی کسی فسق اور معصیت میں مبتلا نظر آوے یا کسی