تمام احباب سلام مسنون پہنچے۔ (یکم جنوری ۱۸۸۴ء مطابق یکم ربیع الاوّل ۱۳۰۱ھ)
مکتوب نمبر۳۹
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ہذا مبلغ پچاس روپیہ مرسلہ آپ کے پہنچ گئے۔ جَزَاکُمُ اللّٰہ خَیْرَا۔ اب یہ عاجز یوم شنبہ امرسترجانے کو تیار ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ وہیں سے آپ کی خدمت میں خط لکھے گا۔ آپ نے جو خواب دیکھی۔ انشاء اللہ القدیر بہت بہتر ہے۔ انسان کو بغیر راست گوئی چارہ نہیں اور انسان سے خدا تعالیٰ ایسی کوئی بات پسند نہیں کرتا جیسے اُس کی راست گوئی کو اور راست یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس عاجز سے ایک عجیب معاملہ ہے کہ اِس جیسے شخص پر اُس کا تفضل اور احسان ہے کہ اپنی ذاتی حالت میں احقر اور ارزل عباد ہے۔ زہد سے خالی اور عبادت سے عاری اور معاصی سے پُر ہے۔ سو اُس کے تفضلات تحیر انگیز ہیں۔ خدا تعالیٰ کا معاملہ اپنے بندوں سے طرزِ واحد پر نہیں اور توجہات اور اقبال اور فتوح حضرت احدیّت کی کوئی ایک راہ خاص نہیں۔ اگرچہ طرق مشہورہ ریاضات اور عبادات اور زُہد اور تقویٰ ہے مگر ماسوا اس کے ایک اور طریق ہے جس کے خدا تعالیٰ کبھی کبھی آپ بنیاد ڈالتا ہے۔ کچھ دن گزرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مجمع زاہدین اور عابدین ہے اور ہر ایک شخص کھڑا ہو کر اپنے مشرب کا حال بیان کرتا ہے اور مشرب کے بیان کرنے کے وقت ایک شعر موزوں اُس کے منہ سے نکلتا ہے جس کا اخیر لفظ قعود اور سجود اور مشہود وغیرہ آتا ہے جیسے یہ مصرع
تمام شب گزرا نیم در قیام و سجود
چند زاہدین اور عابدین نے ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھتے ہیں … اخیر پر اس عاجز نے اپنے مناسب حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے مگر اس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی اور جو شعر اُس خواب کی مجلس میں پڑھنا تھا وہ بطور الہام زبان پر جاری ہو گیا اور وہ ہے
طریق زہد و تعید ندانم اے زاہد خدائے من قدمم را… براہِ داؤد
سو سچ ہے کہ یہ ناچیز زہد اور تعبد سے خالی ہے اور بجز عجز و نیستی اور کچھ اپنے دامن میں نہیں اور وہ بھی خدا کے فضل سے نہ اپنے زور سے جو لوگ تلاش کرتے ہیں وہ اکثر زاہدین اورعابدین کو