آنمخدوم اس بات کو پہلے سے یادرکھیں کہ صرف ایک رات رہنے کی گنجائش ہوگی کیونکہ بشرط زندگی و خیریت کہ جو حضرت خداوندکریم کے ہاتھ میں ہے۔ ۲۶؍ دسمبر ۱۸۸۳ء تک قادیان واپس آجانا ہے۔ اُن سے وعدہ ہو چکا ہے۔ والامرکلہ فی ید اللّٰہ اور ایک دن کے لئے آنا بھی ہنوز ایک خیال ہے واللّٰہ اعلم بخفیقتہ المال۔ اگر خداوندکریم نے فرصت دی اور زندگی اور امن عطا کیا اور امرتسر کے مخمصہ سے صفائی اور راحت حاصل ہوئی اور تاریخ مقررہ پر واپس آنے کی گنجائش بھی ہوئی تو یہ عاجز آنے سے کچھ فرق نہیں کرے گا مگر آپ ریل پر ہرگز تشریف نہ لاویں کہ یہ تکلف ہے۔ یہ احقر عباد سخت ناکارہ اور بے ہنر ہے اور اس لائق ہرگز نہیں کہ اس کے لئے کچھ تکلف کیا جائے۔ مولیٰ کریم کی ستاریوں اور پردہ پوشیوں نے کچھ کا کچھ ظاہر کر رکھا ہے۔ ورنہ من آنم کہ من دانم (۱۹؍ دسمبر ۸۸۳ء مطابق ۱۸؍ صفر ۱۳۰۱ھ)
مکتوب نمبر۳۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ہذا آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ مجھ کو آپ کا اخلاص بہت شرمندہ کر رہا ہے۔ خداوندکرم آپ کو بہت ہی اجر بخشے اور ہی عاجز تفضلات الٰہیہ پر بہت بھروسہ رکھتا ہے اور یقینا سمجھتا ہے کہ اُس کی رحمتیں اس اخلاص اور سعی کے صلہ میں آثار نمایاں دکھلائیں گی۔ یہ عالم فانی تو کچھ چیز نہیں اور اس کی آرزو کرنے والے سخت غلطی پر ہیں۔ مومن کے لئے اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہیں کہ اس کا مولیٰ کریم اُس پر راضی ہو۔ آپ کے نفس میں قبولیت دعا کی شرائط پیدا ہیں اور اس عاجز نے دوسروں میں اس قسم کی استقامت کم پائی ہے۔ نیک ظن بننا آسان ہے مگر اُس کا نبھانا بہت مشکل۔ سو خدا نے استقامت اور حسن ظن کی سالیت آپ کے نفس میں رکھی ہے۔ یہ بڑی خوبی ہے کہ جس سے انسان اپنی مراد کو پہنچتا ہے اور نہایت بدنصیب وہ انسان ہے جس کاانجام آغاز کا جوش نہیں رکھتا اور بدظنی اُس کو ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے اور سعید وہ انسان ہے جس پر نیک ظن غالب ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ٹھوکر کھانے سے بچتے ہیں اور اُس کا فطرتی نور اُن کو شیطانی تاریکی سے بچا لیتا ہے اور تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں اور الحمدللہ کہ میں آپ کو اُن تھوڑوں کے اوّل درجہ میں دیکھتا ہوں۔ بخدمت