شُڈ بی انگری بٹ گاڈ اِز وِد یو‘‘۔’’ ہی شل ہلپ یو‘‘۔ ’’واڑڈس آف گاؤ ناٹ کین ایکسچینج‘‘۔ ترجمہ اگر تمام آدمی ناراض ہونگے لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کلام بدل نہیں سکتے پھر بعد اس کے ایک دو اور الہام انگریزی ہیں جن میں سے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہیں۔ ’’آئی شل ہلپ یو‘‘۔ مگر بعد اس کے یہ ہے۔ ’’یوہیو ٹو گو امرتسر‘‘۔ پھر ایک فقرہ ہے جس کے معنی معلوم نہیں اور وہ یہ ہے۔ ’’ہی ہل ٹس اِن دی ضلع پشاور‘‘۔ یہ فقرات ہیں ان کو تنقیح سے لکھیں اور براہ مہربانی جلد تر جواب بھیج دیں تا اگر ممکن ہو تو اخیر جزو میں بعض فقرات بموضع مناسب درج ہو سکیں۔ بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و خواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچے۔ (۱۲؍ دسمبر ۱۸۸۳ء بمطابق ۱۱؍ صفر ۱۳۰۱ھ) مکتوب نمبر۳۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ موجب ممنونی ہوا آج میراارادہ تھا کہ صرف ایک دن کے لئے آنمخدوم کی ملاقات کے لئے لودہیانہ کا قصد کرو لیکن خط آمدہ مطبع ریاض ہند سے معلوم ہوا کہ حال طبع کتاب کا ابتر ہو رہا ہے اگر اُس کا جلدی سے تدارک نہ کیا جائے تو کاپیاں کہ جو ایک عرصہ کی لکھی ہوئی ہیں خراب ہو جائیں گی۔ بات یہ ہے کہ کاپیوں کی چھ سات جزیں مطبع ریاض ہند سے بباعث کم استطاعتی مطبع کے مطبع چشمہ نور میں دی گئی تھیں اور مہتمم چشمہ نور نے وعدہ کیا تھا کہ اِن کاپیوں کو جلد تر چھاپ دیں گے اور قبل اس کے جو پُرانی اور خراب ہوں چھپ جائیں گی۔ سو خط آمدہ مطبع ریاض ہند سے معلوم ہوا کہ وہ کاپیاں اب تک نہیں چھپیں اور خراب ہوگئیں ہیں کیونکہ اُن کے لکھے جانے پر عرصہ دراز گزر گیا ہے ناچار اس بندوبست کے لئے کچھ دن امرتسر ٹھہرنا پڑے گا اور دوسری طرف یہ ضرورت درپیش ہے کہ ۲۶؍ دسمبر ۱۸۸۳ء تک بعض احباب بطور مہمان قادیان میں آئیں گے اور اُن کے لئے خاکسار کا یہاں ہونا ضروری ہے سو یہ عاجز بنا چاری امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہے اور معلوم نہیں کہ کیاپیش آوے۔ اگر زندگی اور فرصت اور توفیق ایزدی یاور ہوئی اور کچھ وقت میسر آ گیا تو انشاء اللہ القدیر ایک دن کے لئے امرتسر میں فراغت پا کر آنمخدوم کی طرف روانہ ہوں گا۔ مگر وعدہ نہیں اور کچھ خبر نہیں کہ کیاہوگا اور خداوند کے فضل و کرم ربوبیت سے اس عاجز کو فرصت مل گئی تو اس بات کو