انی متوفیک۔ یہ الہام بھی چند مرتبہ ہوا اس کے معنی بھی دو ہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جو تیرا مورد فیض یا بھائی ہے اس کو کہہ دے کہ میں تیرے پر اِتمام نعمت کروں گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ میں وفات دوں گا۔ معلوم نہیں کہ یہ شخص کون ہے۔ اس قسم کے تعلقات کے کم و بیش کوئی لوگ ہیں۔ اس عاجز پر اس قسم کے الہامات اور مکاشفات اکثر وارد ہوتے رہتے ہیں جن میں اپنی نسبت اور بعض احباب کی نسبت۔ اُن کی عسر یسر کی نسبت اُن کے حوادث کی نسبت۔ ان کی عمر کی نسبت ظاہر ہوتا رہتا ہے اور میرا اصول یہ ہے کہ انسانوںکو بالکل اپنے مولیٰ کی مرضی کے موافق رہنا چاہئے اور جو کچھ وہ اختیار کرے وہ بہتر ہے کیونہ تمام خیر اُسی بات میں ہے جو وہ اختیار کرے۔ دل میں ارادہ تو ہے کہ ایک دو روز کے لئے آپ کے شہر میں آؤں مگر بجز مرضی باری تعالیٰ کیونکر پوراہو۔ مولوی عبدالقادر صاحب موتکو بہت یاد رکھیں اور دلی اخلاص کے حصول میں کوشش کریں اور یہ عاجز بھی کوشش کرے گا۔ والسلام ۲۰؍ نومبر ۱۸۸۳ء مطابق ۱۹؍ محرم ۱۳۰۱ھ) مکتوب نمبر۳۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا چونکہ اس ہفتہ میںبعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کئے ہیں مگر قابل اطمینان نہیں اور بعض منجانب اللہ بطور ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات شاید عبرانی ہیں۔ ان سب کی تحقیق تنقیح ضرور ہے تا بعد تنقیح جیسا کہ مناسب ہو آخیر جزو میں کہ اب تک چھپی نہیں درج کئے جائیں۔ آپ جہاں تک ممکن ہو بہت جلد دریافت کر کے صاف خط میں جو پڑھا جاوے اطلاع بخشیں اور وہ کلمات یہ ہیں۔ پریشن، عمر ہراطوس، با پلاطوس یعنی پڑطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔ پھر دو لفظ اور ہیں۔ ھوشعنا نعسا معلوم نہیں کس زبان کے ہیں اور انگریزی یہ ہیں۔ اوّل عربی فقرہ ہے یا داؤد عامل بالناس رنقا و احساناً۔ ’’یو مسٹ ڈڈ وَہاٹ آئی ٹولڈ یو‘‘۔ تم کو وہ کرنا چاہئے جو میں نے فرمایا ہے یہ اُردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ اُس کا الہامی نہیں۔ بلکہ اُس ہندو لڑکے نے بتلایا ہے۔ فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہو جاتا ہے اُس کو غور سے دیکھ لینا چاہئے اور وہ الہام یہ ہیں۔ ’’دَو آل من