ملتا ہے۔ ہر یک زمانہ میں خدا کی مقبولین کی دعا کے ذریعہ سے عجیب طوروں پر مشکل کشائیاں کیں ہیں اور اپنے فضلوں کو منکشف کیا ہے۔ بعض لوگ مستجاب الدعوات ہوتے ہیں اور اُس کی اصلیت یہ ہے کہ حکیم مطلق نے مقدر کیا ہوتا ہے کہ بہت سے اہل حاجات اُن کی دعاؤں سے اپنے مطلب کو پہنچ گئے۔ سو وہی اہل حاجات اُس شخص مستجاب الدعوات کو آ ملتے ہیں اور امر مقدر پورا ہو جاتا ہے۔ سو مستجاب الدعوات کی طرف جھکنا ایک نیک فال ہے۔ کیونکہ غالباً جو شخص مستجاب الدعوات کی طرف آیا ہے اور اس کی طرف میل کرنا اُس کو توفیق دیا گیا ہے وہ اُنہیں لوگوں میں سے ہوگا کہ جن کے حق میں قلم ازلی نے کامیاب ہونا اس کی دعا سے لکھا ہے۔ مگر یہ بات نہیں کہ جو مستجاب الدعوات مانگتا ہے وہ بعینہٖ پورا ہو جاوے۔ اُس کی وجہ پہلے لکھ چکا ہوں۔ پانچ کتابیں راونہ کی گئی ہیں۔ بخدمت خواجہ علی صاحب و مولوی عبدالقادر صاحب سلام مسنون پہنچے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اگرخدا نے چاہا تو لودہیانہ میں مولوی صاحب کی ملاقت ہوگی۔ والامرکلہ فی ید اللّٰہ ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ۔ والسلام ۲۲؍ ستمبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲۰؍ ذیقعدہ ۱۳۰۰ھ) مکتوب نمبر۳۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا آنمخدوم کا عنایت نامہ عین انتظاری کے وقت میں پہنچا۔ خداوندکریم آنمخدوم کو مکروہات زمانہ سے اپنے ظل رحمت میں رکھے۔ جس قدر آپ اس عاجز سے محبت رکھتے ہیں وہی محبت اور تعلق اس عاجز کو آپ سے ہے۔ یہ سچ ہے کہ مقام تعلقات محبت میں انسان یہی چاہتا ہے کہ دیر تک اس دارفانی میں اتفاق ملاقات رہے لیکن اس مسافر خانہ کی بنیاد نہایت ہی خام اور متزلزل ہے۔اب تک اس عاجز پر جو مکشوف ہوا ہے اُن میں سے کوئی ایسا کشف نہیں جس میں طول عمر مفہوم ہوتا ہے بلکہ اکثر الہام ذومعنین ہوتے ہیں جن کے ایک معنی کی رو سے تو قرب وفات سمجھا جاتا ہے اور دوسری معنی اتمام نعمت ہیں۔ اس بات کو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سے معنی مراد ہیں۔ یہ الہام انی متوفیک ورافعک الی اس قدر ہوا ہے جس کاخدا ہی شمار جانتا ہے۔ بعض اوقات نصف شب کے بعد فجر تک ہوتا رہا ہے اس کی بھی دو ہی معنی ہیں۔ رات کو ایک اور عجیب الہام ہوا اور وہ یہ ہے قل لضیفک انی متوفیک قل لا خیک