پاتا ہے اور بسا اوقات ہر سوال کے بعد جواب سنتا ہے اور کلمات احدیّت میں بہت سے تلطفات پاتا ہے تو تمام ہموم و غموم بکلّی دل سے دور ہو جاتے ہیں اور جیسے کوئی نہایت تیز شراب سے مست اور دنیا و مافہیا سے بے خبر ہوتا ہے ایسی ہی حالت سرور کی طاری ہوتی ہے۔ جس میں دوسرے ہموم و غموم تو کیا چیز ہیں موت بھی کچھ حقیقت نظر نہیں آتی خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر کھول دیا ہے کہ زید و عمر کچھ چیز نہیں۔ ہر ایک کام اُس کے اختیار میں ہے۔ پھر جب کہ ایسا ہے تو دوسروں کی شکایت عبث ہے۔ اس عاجز پر جو کچھ تفضلات و احسانات حضرت خداوندکریم ہیں وہ حدوشمار سے خارج ہیں کیونکہ یہ اذّل عباد اپنی ذاتی حیثیت میں کچھ بھی چیز نہیں اور بغیر اُس کے کہ تکلف سے کوئی کسر نفسی کی جائے فی الحقیقت سخت درجہ کاناکارہ اور ہیچ ہے۔ نہ زاہدوں میں سے ہے نہ عابدوں میں سے، نہ پارساؤں میں سے نہ مولویوں میں سے سخت حیران ہے کہ کس چیز پر نظر عنایت ہے۔ یفعل اللّٰہ مایشاء (۲۹؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲۷؍ ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ) مکتوب نمبر۳۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا یہ عاجز چند روز سے ملاحظہ کام طبع کتاب کیلئے امرتسر چلا گیا تھا آج واپس آ کر آنمخدوم کا خط ملا۔ یہاں سے ارادہ کیا گیا تھا کہ امرتسر جا کر بعد اطلاع دہی ایک دو دن کے لئے آپ کی طرف آؤں مگر چونکہ کوئی ارادہ بغیر تائید الٰہی انجام پذیر نہیں ہو سکتا اس لئے یہ خاکسار امرتسر جا کر کسی قدر علیل ہو گیا۔ ناچار وہ ارادہ ملتوی کیا گیا۔ سو اِس طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک روک واقع ہوگئی۔ اُس کے کام حکمت سے خالی نہیں۔ مولوی عبدالقادر صاحب کی حالت سے دل خوش ہے۔ طلب عرفان بھی ایک عرفان ہے۔ حضرت خداوندکریم کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں۔ سو اگر خداوندکریم نے چاہا تو یہ عاجز بھی دعا کرے گا غنیمت ہے کہ بفضلہ مولوی صاحب صاحبِ علم ہیں۔ طالب نادان شیطان کا بازی گاہ ہوتا ہے لیکن اس فقیر کی راہ میں مولویت بھی ایک حجاب عظیم ہے۔ انسان خاک ہے اور جب تک اپنی اصل کی طرف عود کر کے خاک ہی نہ ہو جائے تب تک مولیٰ کریم کی اس پر نظر نہیں پڑتی۔ سو اِس خاکساری اور نیستی کو اُسی قادر مطلق سے طلب کرنا چاہئے۔ اھدنا الصراط المستقیم میں جو مانگا گیا ہے وہ بھی خاکسار اور نیستی ہے۔ انسان کے نفس میں بہت سی رعونتیں اور نخوتیں اور عجب اور ریا اور خود بینی اور بزرگی چھی ہوئی ہے۔ جب تک خدا ہی اُس کو دور نہ کرے دور نہیں ہوتی۔ پس یہ بلا ہے جو نیستی اور خاکساری کے منافی ہے۔ سو تضرع اور زاری سے جناب الٰہی میں التجا چاہئے تا جس نے یہ بلا