اپنی جان کی حفاظت کیلئے ہمراہ رکھا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی واللّٰہ یعصمک من الناس۔ یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی حاجت نہیں۔ سو اسی طرح سمجھیں کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ ’’اگر تمام لوگ منہ پھیر لیں تو میں زمین کے نیچے سے یا آسمان کے اوپر سے مدد کر سکتا ہوں‘‘۔ پھر جب وہ قادر رحمن رحیم ساتھ ہے اور اُس کی طرف سے مواعید ہیں تو کیا غم ہے دنیا دار کیا چیز ہیں اور کیا حقیقت تا ان کے سامنے لجاجت کی جائے اور اگر خدا چاہتا تو اُن کو ایسا سخت دل نہ کرتا۔ پر اُس نے بھی چاہا تا اُس کے نشان ظاہر ہو۔ (تاریخ ۲۴؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲۰؍ ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ) مکتوب نمبر۳۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا آنمخدوم کا خط عنایت نامہ پہنچ کر باعث مسرت خاطر ہوا۔ آپ نے بہت کچھ کوشش کی ہے اور مجھ کو یقین ہے کہ خدا تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں کرے گا سو گو آپ نے کیسی ہی تکلیف اُٹھائی ہوں پھر جب کہ مولیٰ کریم کی راہ میں ہیں تو خوش ہونا چاہئے کہ اُس کریم مطلق نے اس تکلیف کشی کے لائق سمجھا۔ اس عاجز کو خداوند کریم نے ایک خبر دی تھی جس کو حصہ ثالث میں چھاپ دیا تھا یعنی یہ کہ بنصرک رجالٌ نوحی الیھم من السماء یعنی تیری مدد وہ مردان دین کریں گے جن کے دل میں ہم آسمان سے آپ ڈالیں گے۔ سو الحمدللہ والمنتہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو سب سے زیادہ اس عاجز کے انصار میں سے بنایا اور اس ناچیز کو آپ کے وجود سے فخر ہے اور اپنے خداوندکریم کی طرف سے آپ کو ایک رحمت مجسم خیال کرتا ہے اگر لوگ روگردان ہیں اور متوجہ نہیں ہوتے تو آپ اس سے ذرا متکفر نہ ہوں۔ خدا تعالیٰ ہر یک دل پر متصرف ہے اور اُس کا قوی ہاتھ ذرّہ ذرّہ پر قابض ہو رہا ہے اگر وہ چاہتا تو دلوں میں ارادت پیدا کر دیتا۔ مخلوق کیا چیز ہے اور اُس کی ہستی کیا حقیقت ہے لیکن اُس نے یہ نہیں چاہا بلکہ توقف اور آہستگی سے کام کرنا چاہا ہے۔ سب کچھ وہی کرتا ہے وہ دوسرا کون ہے جو اُس کا حارج ہو رہا ہے۔ بارہا اس عاجز کو حضرت احدیّت کے مخاطبات میں ایسے کلمات فرمائے گئے ہیں جن کا ماحصل یہ تھا کہ سب دنیا پنجۂ قدرت احدیّت سے مقہور اور مغلوب ہے اور تصرفات الٰہیہ زمین و آسمان میں کام کر رہے ہیں۔ چند روز کا ذکر ہے کہ یہ الہام ہوا۔ ان تمسمسک بضرٍ فلا کاشف لہٗ الاَّ ھووان یردک بخیرٍ فلا رادلفضلہ الم تعلم ان اللّٰہ علی کل شی قدیر ان وعد اللّٰہ لات۔ سو خدا تعالیٰ اپنے کلمات مقدسہ سے اس قدر اس عاجز کو تقویت دیتا ہے کہ پھر اُس کے غیر سے نہ کچھ خوف باقی رہتا ہے اور نہ اس کو امید گاہ بنایا جاتا ہے۔ جب یہ عاجز اپنے معروضات میں لطف اور لذیذ کلمات میں جواب