پیدا کی ہے وہی اُس کو دور کرے اور ظاہری جھگڑوں میں بہت ہی نرم ہو جانا چاہئے۔ قلت اعتراض سالکیں شعار میں سے ہے انسان جب تک پاک نفس نہ ہو جائے اُس کے جھگڑے نفسانیت سے خالی نہیں۔ قال اللّٰہ عزو جل یاایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یفرکم من ضل اذا ھتدیتھم
(۸؍محرم ۱۳۰۱ء مطابق ۹؍ نومبر ۱۸۸۳ء)
مکتوب نمبر۳۴
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ہذا آنمخدوم کا مکتوب محبت اسلوب پہنچ کر باعث مسرت ہوا۔ خداوندکریم آپ کی تائید میں رہے اور مکروہات زمانہ سے بچاوے اس عاجز سے تعلق اور ارتباط کرنا کسی قدر ابتلا کو چاہتا ہے۔ سو اِس ابتلا سے آپ بچ نہیں سکتے۔
گربمجنوں صبحتے خواہی بہ بینی زود تر خار ہائے دشت و تنہائی و طعن عالمے
عرفت ربی بربی صحیح المضمون ہے۔ اس بارے میں بہت سی احادیث آ چکی ہیں۔ خداوندکریم نے پہلے ہی سورۃ فاتحہ میں یہ تعلیم دی ہے اِیَّاک نَعْبُدُ وَاِیَّکَ نَسْتَعِیْنَ اس جگہ عبادت سے مراد پُرسش اور معرفت دونوں ہیں اور دونوں میں بندہ کا عجز ظاہر کیا گیاہے۔ اسی طرح دوسری جگہ بھی حضرت خداوندکریم نے فرمایا ہے۔ اللّٰہ نورالسموات والارض لایدرکہ الا بصار وھو یدرک الابصار جب تک خدا کی معرفت کا خدا ہی وسیلہ نہ ہو تب تک وہ معرفت شرک کے رگ و ریشہ سے خالی نہیں اور نہ کامل ہے بلکہ بجز تجلیات خاصہ حضرت احدیّت کے معرفت خالصہ کاملہ کا حاصل ہونا ممکن ہی نہیں۔ خدا کے شناخت کرنے کے لئے خدا ہی کا نور چاہئے۔ پس حقیقت میں وہی عارف اور وہی معروف ہے اور نیز یہ بھی جاننا چاہئے کہ تجلیت ربوبیت یکساں نہیں۔ ہر یک شخص کے لئے تجلی ربی الگ الگ ہے اور جس قدر ربانی تجلی ہے اسی قدر معرفت ہے۔ کوئی ظرف وسیع اور کوئی منقبض اور کوئی نہایت صافی اور کوئی اُس سے کم ہے۔ پس تجلی بہ حسب حیثیت ظروف ہے۔ ایک کی معرفت دوسرے کی نسبت حکم عدم معرفت کا پیدا کر سکتی ہے اور معارف غیر متناہی ہیں کوئی کنارہ نہیں۔ اُس ناپید اکنار دریا سے ہر یک شخص بقدر اپنے ظرف کے حصہ لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے انزل من السماء ماء فضالت ادویتہ بقدر ھا یعنی خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام) اُتارا سو ہر یک نالی حسب قدر اپنے بہہ نکلی جس قدر پیاس ہے اسی قدر پانی