مکروہات روا رکھا ہے یہ سب خداوند کریم کی ہی عنایت ہے تا آپ کو اُس کے عوض میں وہ اجر عطا فرماوے جس کا عطا ہونا اُنہیں کوششوں پر موقوف تھا۔ جس کریم رحیم نے اس عاجز نالائق کو اپنے غیر متناہی احسانوں سے بغیر عوض کسی عمل اور محنت کے ممنون و پرورش فرمایا ہے۔ وہ محنت کرنے والوں کی محنت کو ہرگز ضائع نہیں کرتا۔ خدا کی راہ میں انسان ایک ذرّہ بات منہ سے نہیں نکالتا اور ایک قدم زمین پر نہیں رکھتا جس کا اس کو ثواب نہیں دیا جاتا لیکن میں اس جگہ یہ بھی ظاہر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ کو اپنے جوش دلی کے باعث جو ایسے لوگوں کے پاس بھی جاتے ہیں جو ظنون فاسدہ اپنے دل پر رکھتے ہیں اور غرور اور استکبار نفس سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ ہرگز نہیں چاہئے اس کام کی خداوند کریم نے اپنے ہاتھ سے بِنا ڈالی ہے اور ارادہ الٰہی اس بات کے متعلق ہو رہا ہے کہ شوکت اور شان دین کی ظاہر کرے اور اس بارہ میں اس کی طرف سے کھلی کھلی بشارتیں عطا ہو چکی ہیں سو جس بات کو خدا انجام دینے والا ہے اُس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ دنیا مردار ہے اور جس قدر کوئی اُس سے نزدیک ہے اسی قدر ناپاکی میں گرفتار ہے اور بدباطن اور بدبودار ہے اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ مومن کے لئے لازم ہے کہ دنیا دار کے سامنے تذلل اختیار نہ کرے اور اُس کی شان باطل کو تحقیر کی نظر سے دیکھے۔ انسان دنیا دار کے سامنے نرمی اور تواضع اختیار کرتا ہے یہاں تک کہ حضرت خداوند عزوجل کے نزدیک مشرک ٹھہرتا ہے۔ سمجھناچاہئے کہ بجز حضرت قادر و توانا کے کوئی کام کسی کے اختیار میں نہیں اور تمام آسمان و زمین اور تمام دل اُس کے قبضہ میں ہیں اور قدرتِ الٰہیہ سخت درجہ پر متصرف ہے اور اگر وہ کسی کام میں توقف کرتا ہے تو اس لئے نہیں کہ وہ اُس کے کرنے سے عاجز ہے بلکہ اس توقف میں اُس کی حکمتیں ہوتی ہیں۔ مخلوق سب ہیچ اور لاشَے اور مُردہ ہیں نہ اُن سے کچھ نقصان متصور ہے اور نہ نفع۔ دنیا داروں سے مطلب براری کے لئے نرمی کرنا دنیا داروں کا کام ہے اور یہ کام خالق السموات والارض کا ہے مجھ کو یا آپ کو لازم نہیں کہ ایک بدنصیب دنیا دار سے ایسی لجاجت کریں کہ جس سے اپنے مولیٰ کی کسر شان لازم آوے جو لوگ ذات کبریا کا دامن پکڑتے ہیں وہ منکروں کے دروازہ پر ہرگز نہیں جاتے اور لجاجت سے بات نہیں کرتے۔ سو آپ اس طریق کو ترک کر دیں اگر کسی دنیا دار مالدار کو کچھ کہنا ہو تو کلمہ مختصر کہیں اور آزادی سے کہیں اور صرف ایک بار پر کفایت رکھیں اور یار محمد کو روپے بھیجنے سے منع کر دیں اور مناسب ہے کہ آپ یہ سلسلہ غریب مسلمانوں میں جاری رکھیں۔ دوسرے لوگوں کا خیال چھوڑ دیں۔ اس میں ذرّہ تردّد نہ کیا کریں۔ تعجب ہے کہ آپ جیسے آدمی متردّد ہو جائیں۔ اگر ایک کافر بے دین جو دولتمند ہو کسی کو وعدہ دے جو میں تیری مشکلات پر تیری مدد کروں گا تو وہ اُس کے وعدے سے تسلی پکڑ جاتا ہے۔ پر خداوند تعالیٰ کا وعدہ جو اصدق الصادقین ہے کیونکر موجب تسلی نہ ہو۔
لکھا ہے کہ اوّل حال میں جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کو برعایت ظاہر