کہ تکلف نہ ہو کہ وہ اس راہ میں مذموم ہے اور مولوی گل حسن صاحب کا سوال کریم مطلق کی جناب میں کچھ سؤادب کی رائحہ رکھتا ہے۔ اس لئے اُس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ بندہ وفادار کو رشد یا عدم رشد سے کیا مطلب ہے۔ شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی رحمۃ اللہ نے کیا اچھا کیا ہے۔ من ایستادہ ام اینک بخدمت مشغول مرا ازیں چہ کہ خدمت قبول یا نہ قبول گر بنا شد بددست رہ بردن شرط عشق است در طلب مردن اس راہ کے لائق وہ شخص ہوتا ہے کہ وصال اور بقا سے کچھ مطلب نہ رکھے اور اُن تمام واقعات اور مکاشفات سے کچھ سروکار نہ ہو کہ جو سالکوں پر کھلتے ہیں۔ کرامات اور خوارق عادات کا خواہاں نہ ہو اور مقامات واصلین کا جو یاں نہ ہو اور باایں ہمہ سعی اور مجاہدہ میں ہمت نہ ہارے اور خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے فی الواقعہ ایک ذلیل بندہ اپنے تئیں خیال کرتا ہے اور اپنی زندگی کا اصل مقصد اسی راہ میں جان دینا ٹھہراوے گو کچھ راہ پاوے یا نہ پاوے راستبازوں کا یہی راستہ ہے۔ ان کو اس سے کیا کام کہ حضرت احدیّت سے اس بات کا پہلے تصفیہ کرالیں کہ ہم کو آخر راہ ملے گا یا محض محروم رکھنا ہے۔ صادقوں کو ملنے نہ ملنے سے کچھ کام نہیں۔ اگر بالفرض پردہ غیب سے ہزار لعنت سنیں تو وہ اُس سے دل برداشتہ نہیں۔ محبوب کی لعنت بھی محبوب ہے۔ کل یوم ھو فی شان۔ مسجد میں ابھی کام سفیدی کا شروع نہیں ہوا۔ خدا تعالیٰ چاہے گا تو انجام کو پہنچ جائے گا۔ آج رات کیا عجیب خواب آئی کہ بعض اشخاص ہیں جن کو اس عاجز نے شناخت نہیں کیا وہ سبز رنگ کی سیاہی سے مسجد کے دروازہ کی پیشانی پر کچھ آیات رکھتے ہیں۔ ایسا سمجھا گیا ہے کہ فرشتے ہیں اور سبز رنگ اُن کے پاس ہے جس سے وہ بعض آیات تحریر کرتے ہیں اور خط ریحانی میں جو پہچان اور مسلسل ہوتا ہے لکھتے جاتے ہیں۔ تب اس عاجز نے اُن آیات کو پڑھنا شروع کیا جن میں سے ایک آیت یاد رہی اور وہ یہ ہے لارادلفضلہ اور حقیقت میں خدا کے فضل کو کون روک سکتا ہے۔ جس عمارت کو وہ بنانا چاہے اُس کو کون مسمار کرے اور جس کو وہ عزت دینا چاہے اُس کو کون ذلیل کرے۔ (۹؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۷؍ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ) مکتوب نمبر۳۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا آنمخدوم کا خط پہنچا۔ جس قدر آنمخدوم نے کوشش اور سعی اُٹھائی ہے اور اپنے نفس پر مشقت اور تحمل