اُس کے نفس پر باذن اللہ تعالیٰ کھلنے شروع ہو جائیں گے اور کشفی طور پر اُن کی کیفیت اُس پر ظاہر ہوتی جائے گی کیونکہ اسرار جمیع عالم بعینہٖ اسرار نفس ہیں۔ پس جب نفس ببرکت فناء اَتم اپنے حجاب سے خلاصی پائے گا تو جو کچھ خدا نے اُس میں انوار مہیا رکھیں ہیں اُن سب کو ظاہر کرے گا۔ سو یہ معرفت تامہ ہے جو انسان کو بقا کے درجہ پر حاصل ہوتی ہے لیکن یہ معرفت انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔ تمام انسانی کوششیں فنا کے درجہ تک ختم ہو جاتی ہیں اور پھر آگے موہیت الٰہی ہے اور جس پر موہیت کی نسیم چلتی ہے اسی پر وہ سب انوار ظاہر کئے جاتے ہیں جو اس کی روح میں مودع ہیں۔ انسان کی روح میں ایک بڑا سلیقہ یہ ہے کہ وہ اس قدر خدا کے سہارے کی محتاج ہے کہ اُس کے بغیر جی ہی نہیں سکتی۔ الوہیت اُس پر ایک ایسے طور سے محیط ہو رہی ہے کہ جو نہ تقریراً نہ تحریراً نہ صراحۃً نہ کنایۃً نہ تو ضیحاً نہ تمثیلاً بیان میں آ سکتی ہے بلکہ سالک جب بقا کا مرتبہ موہیت حضرت الٰہی سے پاتا ہے تو وہ کیفیت کہ جو بیچون اور بیچگون ہیں۔ اُس پر متجلی ہوتی ہے اور باوجود تحقق تجلی کے پھر بھی اُس کو بیان نہیں کر سکتا۔ من عرف کل لسانہٖ۔ آہ راکہ خبر شد خبرش باز نیامد۔ غرض الٰہی تجلی کا نام معرفت تامہ ہے اور من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کا مقصود حقیقی بھی ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ آنمخدوم نے جو سوالات لکھنے کا طریق نکالا ہے بہت اچھا ہے۔ مگر چاہئے کہ تکلف درمیان نہ ہو یعنی خواہ نخواہ سوال نہ تراشا جاوے بلکہ جب خدا کی طرف سے کوئی موقعہ پیش آوے تب سوال کیا جاوے۔ سلف صالح کا مکتوبات اکابر کے لکھنے میں بھی طریق رہا ہے اور جس کی معرفت کو خدا تعالیٰ ترقی دینا چاہتا ہے اس کی زندگی میں خود ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسے موقعہ نکلتے آتے ہیں جن سے اُس کو سوال کرنے کا استحقاق پیدا ہو جاتا ہے۔ قرآن شریف جو جامع تمام معارف اور حقائق ہے عبث طور پر نہیں ہوا بلکہ جب حاجت پیش آئی نازل ہوا ہے اور ہر ایک آیت محکم اس کی ایک ضروری شان نزول رکھتی ہے۔ والسلام بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و خواجہ علی صاحب و دیگر صاحبان سلام برسد۔
(بتاریخ ۴؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲؍ ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ)
مکتوب نمبر۳۰
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا جن امور میں خلق کی بھلائی ہے۔ اُن کا دریافت کرنا مضائقہ نہیں۔ صرف مجھے خوف تھا