من عرف نفسہ فقد عرف ربہ حدیث نبوی کر کے بیان کیا گیا ہے۔ احیاء العلوم میں اس قسم کی بہت سی احادیث ہیں جن میں محدثین کو اپنے قواعد مقررہ کے رو سے کلام ہے۔ مگر اس قول میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو قال اللّٰہ و قال الرسول سے منافی ہو۔ وقال اللّٰہ تعالٰی۔ وفی النفسکم افلاتبصرون (الجزو:۲۷) حضرت ربّ العالمین نے تمام عالم کو اسی غرض سے پیدا کیا ہے کہ تا وہ شناخت کیا جاوے۔ نفس انسانی ایک نسخہ جامع جمیع اسرار عالم ہے اور کچھ شک نہیں کہ جس کو کماحقہٗ علم نفس حاصل ہو۔ اُس کو وہ معرفت حاصل ہوگی کہ جو جمیع عالم کی حقیقت دریافت کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے پس یہ طریق نہایت قریب اور آسان ہے کہ انسان اپنے نفس کی شناخت کے لئے کوشش کریں۔ اُسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام میں اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ والشمس والضحا ھا والقمر اذا تلاھا والنھارا جلاھا والیل اذا یغشہاھا والسماء مابناھا والارض وما طحاھا و نفس وما سواھا قد افلح من زکھا وقدخاب من دسھا۔ سو خدا نے شمس اور قمراور دن اور رات اور آسمان اور زمین کی خو بیان فرما کر پھر بعد اس کے ونفس وما سواھا فرمایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ نفس انسانی میں وہ سب استعدادات موجود ہیں کہ جو متفرق طور پر عالم کے جمیع اجزا میں پائے جاتے ہیں۔ اگر خواہی کہ دربینی تمامی وضع عالم رائیکے درنفس خودینگر ہمہ و شعش تماشا کُن۔ پھر بعد اُس کے فرمایا قدافلح من زکھا یعنی وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کا کیا نجات پا گیا۔ سو نجات سے حصول معرفت تامہ مراد ہے کیونکہ تمام عذاب اور ہریک قسم کے عقوبات جہل اور ضلالت پر ہی مرتب ہونگے۔ من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الامرہ اعمی (الجزو:۱۵) اور تزکیہ نفس دو قسم پر ہے تزکیہ من حیث العلم اور وہ یہ ہے کہ نفس کو حضرت باری عزو جل اور دارآخرت کی نسبت علم یقینی قطعی حاصل ہو اور شکوک اور شبہات اور عقائد غلط اور فاسد سے نجات پا جائے۔ تزکیہ من حیث العمل وہ یہ ہے کہ جیسے فی الحقیقت حضرت باری غراسمہٗ اس بات کامستحق ہے کہ اُسی سے محبت ذاتی ہو اور جیسے فی الحقیقت اُس کے وجود کے مقابل اور سب وجود ہیچ اور کالعدم ہیں۔ ایسے ہی سالک کے لئے حالت حاصل ہو جائے اور جب انسان کو حالت فنا حاصل ہوگئی تو وہ تمام اسرار قدرت اور دقائق حکمت جو زمین اور آسمان میں مخفی ہیں