اور نفس امّارہ سرور کا خواہاں ہے اور شہوات کا طالب ہے ان دونوں میں موسیٰ اور فرعون کی طرح جنگ ہو رہا ہے۔ یہ جنگ اسی وقت تک رہتا ہے جب انسان اپنی ہستی کو مقصود ٹھہرا کر فنا فی اللہ کی حالت سے گرا ہوا ہوتا ہے لیکن جب انسان اپنی ہستی سے بالکل کھویا جاتا ہے تو وہ پہلی بیرنگی جو عالم ہستی میں اُس کو حاصل تھی پھر حاصل ہو جاتی ہے اور کوئی شائبہ وجود کا باقی نہیں رہتا۔ اس مرتبہ پر نفس امّارہ اور نور قلب کا جنگ ختم ہو جاتا ہے اور شہوات نفسانی حظوظ کا حکم پیدا کر لیتی ہیں اور فانی کا کھانا پینا، ازدواج متعددہ کرنا وغیرہ امور جائے اعتراض نہیں ٹھہرتا اور نہ کچھ اُس کو ضرر کرتا ہے کیونکہ وہ فانی ہے اور اب یہ کام خدا کے ہیں جو اُس پر جاری ہوتے ہیں۔ سو اِس مقام پر آ کر موسیٰ اور فرعون کی صلح ہو جاتی ہے۔ (۴) حرص و ہوا سے اوّل چیز جو انسان کو روکتی ہے جذبہ الٰہی ہے۔ وہی جذبہ انسان کو صالحین کی صحبت کی طرف کھینچتا ہے۔ وہی اُس کو کسی صالح کا مرید کراتا ہے۔ صحیح حدیث میں وار دہے کہ انسان گناہ کرتا ہے۔ پھر حضرت خداوندی میں روتا ہے کہ مجھ سے گناہ ہو گیا۔ خدا تعالیٰ اُس کو بخش دیتا ہے اور اپنے فرشتوں کے روبرو اُس کی تعریف کرتا ہے۔ پھر چند روز پا کر اُس بندہ عاجز سے گناہ ہو جاتا ہے۔ پھر وہ جناب الٰہی میں روتا اور چلاتا ہے اور ہر بار خدا تعالیٰ اُس کو بخشتا جاتا ہے اور فرشتوں کر روبرو اُس کی تعریف کرتا ہے آخر اُس کو کہتا ہے اعمل ماشئت فانی غفرت لک۔ یعنی اب جو تیری مرضی ہے کہ مَیں نے تجھ کو بخش دیا ہے سو اُسی روز سے وہ محفوظ ہو جاتا ہے اور پھر ہوا و ہوس اس پر غالب نہیں ہو سکتے غرض جیسے جسمانی پیدائش کی ابتدا خدا ہی کی طرف سے ہے۔ روحانی پیدائش کی ابتدا بھی خدا کی ہی طرف سے ہے۔ یھدی من یشاء و یضل من یشاء۔ جس کو وہ بُلاتا ہے وہ دوسرے کی بھی سن لیتا ہے مگر جس کو وہ نہیں بُلاتا وہ کسی کی نہیں سنتا۔ جیسا کہ خود اُس نے فرمایا ہے۔ من یھدی اللّٰہ فھوا المھتدی ومن یضلل لن تجدالہ ولیاً مرشداً (سورہ کہف الجزو:۱۵) یعنی ہدایت وہ پاتا ہے جس کو خدا گمراہ رکھنا چاہتا ہے۔ اس کو مرشد ہدایت نہیں دے سکتا چند انگریزی فقرات جو الہام ہوئے تھے وہ مطبع میں بھیجے گئے ہیں۔ اس جگہ کوئی انگریزی خوان نہیں۔ ایک ہندو لڑکا قادیان کا لاہور پڑھتا ہے اُس نے دیکھے تھے۔ مکتوب نمبر۲۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعض کتب میں