ظاہری کی طرح نہیں ہوتا کہ جو صرف ظاہری اعمال بطور عادت اور رسم کے بجا لا کر اور تزکیہ نفس اور تنویر قلب سے بکلّی محروم رہ کر پھر بہشت کی امیدیں باندھ رہے ہیں بلکہ صوفی اسی جہان میں اپنے بہشت کو دیکھنا چاہتا ہے اور صرف وعدوں پر قناعت نہیں کرتا۔ سو صوفی عمل کی رو سے بھی ابن الوقت ہے جو حفظ اوقات ہی سے اس کے سارے کام نکلتے ہیں اور حاضر الویت نعمتوں کو پاتا ہے لیکن چونکہ ہنوز اپنی ہی قوتوں اور طاقتوں اور اخلاصوں اور صوقوں اور محنتوں اور مجاہدات پر اُس کا مدار ہے اور مسافر کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ قدم رکھنا اس کا کام ہے۔ اس لئے وہ صاحب حال ہے صاحب مقام نہیں کیونکہ حال وہ ہے جو تغیر پذیر ہو اور مقام وہ ہے جس کو ثبات اور قرار ہو۔ سو صوفی ابھی مسافر کی طرح ہے۔ ایک جگہ چھوڑتا ہے دوسری جگہ جاتا ہے۔ دوسری چھوڑتا ہے تیسری جگہ جاتا ہے لیکن صافی وہ ہے جس کو بعد حصول فنا اَتم کے عنایات الٰہیہ نے اپنی گود میں لے لیا ہے۔ اب اس کو ان محنتوں اور مشقتوں سے کچھ غرض نہیں کہ جو صوفی کو پیش آتی ہیں کیونکہ وہ کاسات وصال سے بہرہ یاب ہو گیا ہے اور دست غیبی نے اُن کو ہر ایک بشریت کے لوث سے مصفٰی اورمطہر کر دیا ہے اور جو اعمال دوسروں کے لئے بوجھ ہیں وہ اس کے حق میں سرور اور لذت ہوگئے ہیں۔ اور وہ تکلفات حفظ اوقات اور دوام مراقبہ و مشغولی سے برتر و اعلیٰ ہے بلکہ رجال لاتلیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللّٰہ میں داخل ہے اور اس کا سونا اور اس کا کھانا اور اُس کا ہنسنا اور کھیلنا اور دنیا کے کاموں کو بجا لانا سب عبادت ہے کیونکہ وہ منقطع اور مفرد ہے اور عنایت الٰہیہ نے اُس کو اُس کے نفس کے پنجہ سے چھین لیا ہے اور اس کی سرشت کو بدلا دیا ہے۔ اب اُس کا غیر پر قیاس کرنا اور غیر کا اُس پر قیاس کرنا ناجائز ہے۔ صوفی بھی اُس کو نہیں پہنچان سکتا کیونکہ وہ بہت ہی دور نکل گیا ہے اور وہ صاحب مقام ہے اور خدا نے اُس کو اپنی ذات سے تعلق شدید بخشا ہے اور وہ ہر ایک وقت اور حال سے فارغ ہے کیونکہ بجائے اُس کے عنایت الٰہیہ کام کر رہے ہیں اور وہ مست اور مدہوش کی طرح پڑا ہے اور تمام آلام اُس کے حق میں بصورت انعام ہوگئے ہیں۔ صوفی میں اجر کی خواہش ہے۔ اُس میں اجر کی خواہش نہیں۔ صوفی معمور الاوقات ہے اور وہ فانی الذات ہے۔ پھر معموری کیا اور وقت کیا۔ صیقل زدم آہ قدر کہ آئینہ نماند۔ اس تحقیق میں دوسرے سوال کا جواب بھی آ گیا۔
(۳) موسیٰ اور فرعون سے روح اور نفس امّارہ کا جنگ و جدال مراد ہے جو نور روح ہے جس کو نور قلب بھی کہتے ہیں۔ وہ ہر وقت قالوبیٰ کا نعرہ مار رہا ہے اور بارگاہ خدا میں اپنی لذت اور سرور چاہتا ہے اور موسیٰ کی طرح شر کا دشمن ہے