میں درج بھی کیا جائے گا۔ خداوندتعالیٰ کی الوہیت کی موجیں ہیں کہ اس ناکارہ بندہ کو کہ جو فی الواقعہ بے ہنر اور تہی دست ہے۔ ایسے مکالمات سے یاد کرتا ہے روحی فداء سبیلہ مایشان من جلیلہ اور وہ الہام یہ ہے بشریٰ لک یا احمدی انت مرادی و معی غرمت کرامتک بیدی۔ بشارت باد ترایا احمد من۔ تو مراد منی و بامنی۔ نشاندم درخت بزرگی ترابدست خود۔ بخدمت خواجہ علی صاحب و مولوی عبدالقادر صاحب و منشی بہرام خان صاحب وغیرہ احباب آں صاحب سلام مسنون پہنچے۔ (تاریخ ۱۳؍ ستمبر ۱۸۸۳ء مطابق ۱۰؍ ذیقعد ۱۳۰۰ھ) مکتوب نمبر۲۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذاآنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ آپ نے جو سوالات کئے ہیں ان کی حقوقت خداوندکریم ہی کو معلوم ہے۔ اس حقر کے خیال میں جو گزرتا ہے وہ یہ ہے (۱) صوفی باعتبار اس حالت کے سالک کا نام ہے کہ جب وہ اپنے زور اور تمام توجہ اور تمام عقل اور تمام اطاعت اور تمام مشغولی سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قدم اُٹھاتا ہے اور اپنی جانفشانیوں اور محنتوں اور صدقوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ تک پہنچنا چاہتا ہے تو اس حالت میں تمام کاروبار اُس کا وابستہ اوقات ہوتا ہے۔ اگر اپنے وقتوں کو ہریک لہو و لعب سے بچا کر یاد الٰہی سے معمور کرتا ہے تو اگر خدا نے چاہا ہے تو کسی منزل تک پہنچ جاتا ہے لیکن اگر حفظ اوقات میں خلل ہوتا ہے تو اس کا سارا کام درہم برہم ہو جاتا ہے جیسے اگر مسافر چلتا بھی رہے تو جائے مقصود تک پہنچتا ہے۔ پر اگر چلنا چھوڑ دے بلکہ جنگل میں آرام کرنے کی نیت سے سو جائے تو قطع نظر عدم وصول سے جان کا بھی خطرہ ہے۔ سو جیسے مسافر ابن السبیل ہے۔ سبیل کوقطع نہ کرے تو کیسے ٹھکانہ تک پہنچے۔ ایسا ہی صوفی ابن الوقت ہے۔ اپنے وقت کو خدا کی راہ میں لگاوے تو مقصود کو پاوے۔ پس جب کہ حفظ وقت صوفی کے لازم حال ہی پڑا ہے تو اپنے کام کو فردا یا پس فردا پر ڈالنا اس کے حق میں مہلک ہے اور نیز صوفی کیلئے یہ بھی لازم ہے کہ اسی جہان میں اپنی نجات کے آثار نمایاں کا طالب ہو اور اپنے کام کے دن میں بھی اپنی اُجرت کا خواستگار ہو۔ فردا یعنی قیامت پر صوفی اپنا حساب نہیں ڈالتا اور نسیہ اور ادھار کا روا وار نہیں ہوتا بلکہ دست بدست مزدوری مانگتا ہے۔ اور اس آیت شریفہ پر اُس کا عمل ہوتا ہے۔ من کان فی ھذہٖ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی۔ پس صوفی ان علماء