کہ اور نہیں تو اُن معجزات کی ہیبت سے اخراج نفسانیت ہی ہو۔ مگر یہ بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ سماوی نشانوں کو ازدیادِ ایمان میں دخل عظیم ہے اور خود ولایت تامہ کی حقیقت جب کہ قرب تام ہے تو پھر ظاہر ہے کہ قرب اور مشاہدہ عجائبات لازم و ملزوم ہے جو شخص ہمارے مکان پر آتا ہے اُسے ضرور ہے کہ مکان کی وضع اور اس کی کیفیت کمیت سے اطلاع پیدا کرے۔ لیکن اگر بعد از وصول بھی ایسا ہے جو قبل از وصول تھا تو گویا اُس نے مکان کو دیکھا ہی نہیں۔ انبیاء کے یقین کو بھی خدا نے نشانوں سے ہی بڑھایا ہے اور قرآن شریف میں رب ارنی کیف تحی الموتی حضرت ابراہیم کا سوال موجود ہے۔ پھر کیونکر کہاجائے کہ ولایت بغیر خوارق کے حاصل ہو سکتی ہے۔بِلاشُبہ جس قدر مشاہدہ خوارق کا زیادہ ہے۔ اُسی قدر قوت یقین زیادہ ہے۔ اسی قدر قوبت زیادہ ہے۔ اُسی قدر علم زیادہ ہے۔ خدا تعالیٰ خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو مسجد اقصیٰ اور آسمان کا سیرا کرایا تا اُس کو اپنی آیات خاصہ سے مطلع کریں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جس ولی کو منصب ارشاد اور ہدایت کا عطا نہیں کیا گیا۔ اُس کے خوارق اور لوگوں پر ظاہر ہونا ضرور نہیں ہے کیونکہ اُس کو لوگوں سے کچھ واسطہ اور تعلق نہیں ہے لیکن خود اُس پر تو ظاہر ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ حقیقت ولایت تک اس کا قدم پہنچنا اسی سے وابستہ ہے۔
مسجد کے بارہ میں جو فقرہ خداوندکریم کی طرف سے الہام ہوا تھا جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ مادہ تاریخ موجود ہے یہ فقرہ ہے مبارک و مبارک وکل امرٍ مبارک یجعل فیہ۔ خداوند تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ اس مسجد مبارک کے بارے میں پانچ مرتبہ الہام ہوا۔ منجملہ ان کے ایک نہایت عظیم الشان الہام ہے جس کے ایک فقرہ سے آپ کو پہلے اطلاع دے چکا ہوں مگر بعد اس کے ایک دوسرا فقرہ بھی الہام ہوا اور وہ دونوں فقرہ یہ ہیں۔ فیہ برکات للنا و من دخلہ کان امنا۔ یعنی اس میں لوگوں کے لئے برکتیں ہیں جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں آ گیا۔ علماء ظاہر شاید اس پر اعتراض کریں کہ یہ تو بیت اللہ خانہ کعبہ کی شان میں وارد ہے۔ مگر وہ لوگ برکات و سعیہ حضرت احدیّت سے بے خبر ہیں اور معذور ہیں اور نیز ایک الہام یعنی مکالمہ حضرت احدیّت اس ذلیل ناچیز عاجز سے واقع ہوا۔ بباعث رابطہ اتحاد آپ کو لکھتا ہوں اور چونکہ یہ عاجز اعلان کا اِذن بھی پاتا ہے اس لئے کتاب میں یعنی حصہ چہارم