ہی عنایات الٰہیہ اُن کی متولی ہو جاتی ہے۔ اُن کو سالکوں کی پُر تکلف حالت سے کچھ مناسبت نہیں ہوتی۔ اُن کو کچھ خبر نہیں ہوتی کہ کب فنا آئی اور کب بقا حاصل ہوئی کیونکہ دست غیبی نے اُن کو فطرت میں ہی درست کر لیا ہوتا ہے اور بیفہ بشریت میں داخل بھی نہیں ہوتے۔ تعلقات شیدہ عشق الٰہی کے ان کی فطرت سے لگے ہوئے ہوتے ہیں اور ابتدائی فطرت سے کسی ریاضت کے محتاج نہیں ہوتے وَذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائِ اور ایسے لوگوں سے بغیر حاجت ریاضات شاقہ کے خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ شان نبوت اُن پر غالب ہے۔
سو اگر اکابر نقشبندیہ نے ظہور خوارق کے لئے ریاضات شاقہ کو شرط ٹھہرایا ہے تو ایسے مکمل لوگوں کو مستثنیٰ رکھ لیا ہوگا اور ایسے لوگ نہایت قلیل الوجود اور نادر الظہور ہیں۔ کبھی کبھی شدت حاجت کے وقت خلق اللہ کی بھلائی کے لئے دنیا میں بھیجے جاتے ہیں اور اُن کا آنا لوگوں کیلئے ایک رحیمت عظیم ہوتا ہے اور اُمت مرحومہ محمدیہ پر حضرت احدیّت کی یہ رحمت ہے۔ کبھی کبھی آخر صدی پر اصلاح اور تجدید دین کیلئے اس شان کے لوگ مبعوث ہوتے ہیں اور دنیا اُن کے وجود سے نفع اُٹھاتی ہے اور دین زندہ ہوتا ہے اور یہ بات کہ ظہور خوارق ولایت شرط ہے یا نہیں۔ اکثر صوفیا کا اتفاق اسی پر ہے کہ شرط نہیں۔ پر اس عاجز کے نزدیک ولایت تامہ کاملہ کے لئے ظہور خوارق شرط ہے۔ ولایت کی حقیقت قرب اور معرفت الٰہی ہے سو جو شخص صرف منقولی یا معقولی طور پر خدا پر ایمان لاتا ہے اور وہ کشوف عالیہ اور زوالِ حجب اس کو نصیب نہیں ہوا۔ جس سے ایمان اُس کا تقلید سے تحقیق کے ساتھ مبدل ہو جاتا تو کیونکر کہا جائے کہ اُس کو ولایت تامہ نصیب ہوگئی ہے۔ بعض بزرگوں نے جیسے حضرت مجدد الف ثانی صاحب نے اپنی مکتوبات میں لکھا ہے کہ یقین کے لئے معجزات نبویہ کافی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ کافی نہیں کیونکہ وہ معجزات اب اس شخص کے حق میں کہ جو صدہا سال بعد میں پیدا ہوا ہے منقولات کا حکم رکھتے ہیں اور دید اور شنید میں جس قدر فرق ہے۔ ظاہر ہے علماء محدثین سے زیادہ اور کون معجزات سے واقف ہوگا۔ مگر وہ معجزات کہ جن کی رویت سے ہزار ہا صحابہ یقین کامل تک پہنچ گئے تھے۔ اب ان کے ذریعہ سے علماء ظاہر کو اس قدر اثر بھی نصیب نہیں ہوا