میں ربوبیت کے تجلیات گھر کر جاتے ہیں اور بشریت کی آلودگیاں اور تنگیاں اُٹھ جاتی ہیں۔ پس اُن سے نیک اور پاک خلق ایسے عجیب اور خارق العادت و طور پر صادر ہوتے ہیں کہ بشریٰ طاقتوں سے بجز خاص تائید الٰہی کے اُن کا صادر ہونا ممکن نہیں۔ انسان بشریت کے تعلقات اور نفس امّارہ کی زنجیروں میں اور ننگ و ناموس کی قیدوں میں اور خانہ داری کے جانگداز فکروں میں اور شداید اور آلام کے حملوں میں اور وساوس اور اوہام کی نیش زنیوں میں سخت عاجز ہو رہا ہے اور اگر دعویٰ کرے کہ میں اپنی ہی قوت سے ان بھاڑی بوجھوں سے نکل سکتا ہوں تو وہ جھوٹا ہے۔ پس اہل اللہ میں یہ بزرگی ہے کہ وہ توفیق یافتہ ہوتے ہیں اور دست غیبی اپنی خاص حمائت اور قوت سے اُن کواِن تمام بوجھوں کے نیچے سے باہر نکال لیتا ہے سو اُن سے ایسا توکّل اور ایسا صبر اور ایسا سخا اور ایسا ایثار اور ایسا صدق اور ایسا رضا بقضاء صادر ہوتا ہے کہ دوسروں سے ہرگز ممکن نہیں کیونکہ درپردہ الٰہی ستاری ان کی مددگار ہوتی ہے اور وہ لغزشوں سے بچائے جاتے ہیں اور جس کی محبت میں وہ دنیا کو کھو بیٹھتے ہیں اور دنیوی عزتوں اور ناموں سے بیزار ہوگئے ہیں۔ وہی محبوب حقیقی اُن کا متولی ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اہل حق مکالمات ومخاطبات حضرت احدیّت پاتے ہیں جو تائیدات خاصہ کی بشارتوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور نیز اُن میں وہ مراتب عالیہ اُن پر ظاہر کئے جاتے ہیں کہ جو اُن کو حضرت احدیّت میں حاصل ہوئے ہیں اور یہ نعمت غیروں کو ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس جگہ بتوجہ یاد رکھنا چاہئے کہ الہامات و مکالمات الٰہیہ کو جو ایسی پیشگوئی پر مشتمل ہوں جن میں شخص ملہم کی تائیدات عظیمہ کا وعدہ ہے۔ وہ اہل اللہ کی شناخت کے لئے نہایت روشن علامت ہیں اور کوئی خارق عادت ان سے برابر نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندہ سے کلام کرنا اور پھر اُس کے کلام کا ایسی پیشگوئیوں پر مشتمل ہونا کہ جو تائیدات عظیمہ کے مواعید ہیں اور پھر اُن مواعید کا اپنے وقتوں پر پورا ہونا معیت اللہ کا ایک روشن نشان ہے۔ تیسری علامت یہ ہے کہ خواص اولیاء یاضات شاقہ کے محتاج بھی نہیں ہوتے۔ ایک قسم ولائت کی ہے جو وہ ثبوت سے بہت مشابہ ہے۔ اس قسم کے لوگ جب دنیا میں آتے ہیں تو ہوش پکڑتے