بیگانہ محض پر بھی جا پڑتا ہے۔ جیسے ایک عیسائی نے جب کہ مبالہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حسین و حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنھم عیسائیوں کے سامنے آئے دیکھ کر اپنے بھائیوں کو کہا کہ مباہلہ مت کرو۔ مجھ کو پروردگار کی قسم ہے کہ میں ایسے منہ دیکھ رہا ہوں کہ اگر اس پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اُٹھ جا تو فی الفور اُٹھ جائے گا۔ سو خدا جانے کہ اس وقت نور نبوت وہ ولایت کیسا جلال میں تھا کہ اس کافر، بدباطن، سیہ دل کو بھی نظر آ گیا اور عام طور پر باستثناء خواص اہل اللہ و اکابر اولیا کی حقیقت ولایت کو جو قرب الٰہی کا نام ہے بجز حضرت احدیّت کے کسی کو اس پر اطلاع نہیں ہو سکتی۔ ہاں اس حقیقت کے انوار و آثار جیسے استقامت صبر، رضا، جودوسخا، صدق، وفا، شجاعت حیا اور نیز خوارق و دیگر علامات قبولیت لوگوں پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ سب آثار ولایت ہیں اور حقیقت ولایت ایک مخفی امر ہے۔ جس پر غیر اللہ کو ہرگز اطلاع نہیں وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب اور جو آپ نے دریافت کیا ہے کہ خوارق و کرامات ریاضات شاقہ کا نتیجہ ہے یا کیا حال ہے اس میں تحقیق یہ ہے کہ بِلاشُبہ ریاضات شاقہ کو کشوف وغیرہ خوارق میں دخل عظیم ہے بلکہ اس میں کسی خاص مذہب بلکہ توحید کی بھی شرط نہیں اور اسی جہت سے فلاسفہ یونان اور اس ملکِ ہند کے جوگی اپنے تپوں جپوں کے ذریعہ سے صفائی نفس حاصل کرتے رہے ہیں اور اُن کا قلب اپنے معبودات باطلہ پر جاری ہوتا رہا ہے اور مکاشفات بھی اُن سے ظہور میں آتے رہے ہیں۔ چنانچہ کسی تاریخ دان اور صاحب تجبرہ پر یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ اب بے خبر کو بڑی مشکل یہ پیش آتی ہے کہ جب کشوف و خوارق باطل پرستوں اور استدارج دانوں سے بھی ہو سکتے ہیں تو پھر اُن میں اور اہل حق لوگوں میں کیا فرق باقی رہا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت احدیّت کے برگزیدہ بندے تین علامات خاصہ سے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ علامتیں ایسی ہیں کہ گویا باطل پرست لوگ اپنی کجروی کی محنتوں سے گداز بھی ہو جائیں تب بھی وہ علامات ان میں متحقق نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ اوّل ان میں ایک یہ ہے کہ اہل حق کو صرف کشفی صفائی نہیں اخلاقی صفائی بھی عطا ہوتی ہے اور وہ اخلاق فاضلہ میں اس قدر پایہ عالیہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ جیسے خدا کو اپنے اخلاق پیارے ہیں۔ ویسا ہی وہ ربّانی اخلاق اُن کو پیارے ہو جاتے ہیں اور اُن کی سرشت