لوگ نمازیں بھی پڑہیں گے اور روزے بھی رکھیں گے اور مسجدوں میں اکٹھے ہوں گے پر اُن میں سے ایک بھی مسلم نہ ہوگا۔ یعنی مومن حقیقی نہ ہوگا۔ اپنی دنیا اور اپنی رسوم میں گرفتار ہوں گے اور دین بھی رسم کے طور پر بجا لائیں گے۔ سو اَب ایسے وقت کا اندیشہ ہے خداوند کریم رحم کرے۔ بخدمت مولوی صاحب و خواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچادیں اگر ملاقات میسر ہو۔
(تاریخ ۶؍ ستمبر ۱۸۸۳ء مطابق ۳؍ ذیعقد ۱۳۰۰ھ)
مکتوب نمبر۲۸
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آنمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ حدیث نبوی یعرفھم غیری کے معنی جو اس عاجز کے دل میں ڈالے گئے ہیں یہ ہیں کہ غیر کے لفظ سے نفی ماسوا اللہ مراد نہیں بلکہ نفی نااہل و ناآشنا مراد ہے۔ مگر جو لوگ مومن حقیقی ہیں وہ بباعث استعداد فنا اور زوال حجب کے کبریائی دامن کے اندر ہیں اور غیر نہیں ہیں خود خدا تعالیٰ نے بعض صالح اہل کتاب کے حق میں اپنی کتاب مجید میں یہ فرمایا ہے یفرفونہ کما یعرفون ابناء ھم یعنی وہ لوگ پیغمبر آخر الزمان کو جو امام الانبیاء اور سید الاولیا ہے اس طرح پر شناخت کرتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو شناخت کر رہے ہیں اور اسی طرح روحانی روشنی کی برکت سے اولیا اولیا کو شناخت کر لیتے ہیں۔ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اویس کے وجود کو یمن میں شناخت کر لیا اور بارہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ یمن کی طرف سے رحمان کی خوشبو آ رہی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے مراتب معلوم تھے اور ہریک کی نورانیت باطنی کا اندازہ اس قلب منور پر مکشوف تھا۔ ہاں جو لوگ بیگانہ ہیں وہ یگانہ حضرت احدیّت کو شناخت نہیں کر سکتے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ینظرون الیک وھم لا یبصرون یعنی وہ تیری طرف (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نظر اُٹھا کر دیکھتے ہیں پر تو اُنہیں نظر نہیں آتا اور وہ تیری صورت کو دیکھ نہیں سکتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انوار روحانی کا سخت چمکارا