پس جب کہ کامل طور پر اتباع سنت میسر آ جائے گا اور ایک ذرّہ ہوائے نفس کی پیروی نہیں رہے گی بلکہ ظاہر و باطن متابعت رسول کریم سے منور ہو جائے گا تو یہ وہ حالت ہے جس کا نام فنا بامر اللہ ہے۔ مگر ہائے افسوس کہ اس پر ظلمت زمانہ میں بجائے اس کے کبریت احمر کا قدر کریں۔ اکثروں کو اس طریق سے بغض ہے اور اتباع سنت سے ایک چِڑ ہے۔ حالانکہ دوسری قسم فنا کی بجز اس کے ہرز میسر نہیں ہو سکتی۔ اللھم اصلح امۃ محمد اللھم ارحم امۃ محمد اللھم انزل علینابرکات محمد و صل علی محمد و بارک وسلم۔ تیسری شرط مورد معارفِ الٰہیہ ہونے کے لئے یہ ہے کہ رضا بقضاء ہو اور ایسا انشراح صدر میسر آ جائے کہ جو کچھ ارادت ِ الٰہیہ سالک پر نافذ ہوں۔ عاشق صادق کی طرح ان سے متلذذ ہو اور انقباض پیدا نہ ہو بلکہ یہاں تک موافقت تامہ پیدا ہو جائے کہ اُس محبوب حقیقی کی مراد اپنی ہی مراد معلوم ہو اور اس کی خواہش اپنی خواہش دکھلائی دے۔ اس جگہ بھی وہی سوال لزوم دور کا لازم آتا ہے جو پہلی قسم میں لازم آیا تھا اور جو اَب بھی وہی ہے جو پہلے دیا گیا ہے۔انسان کا کام بجز صحبت صادقین کے سراسر خام ہے اور بجز طریق فنا یا صحبت فانیوں کے ایمان کا سلامت لے جانا نہایت مشکل ہے۔ پس سعید وہی ہے کہ جو سب سے پہلے ایمان کی سلامتی کا فکر کرے اور ناحق کے ظاہری جھگڑوں اور بے فائدہ خرخشوں سے دست کش ہو کر اس جماعت کی رفاقت اختیار کرے۔ جن کو خدا تعالیٰ نے اپنا درد عطاکیا ہے اور یقینا سمجھے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو عمدہ نعمت دنیا کیلئے لائے وہ یہی درد اور محبت الٰہی ہے جس کو خدا اور رسول کی محبت دی گئی۔ اس نے اپنی اصل مراد کو پا لیاہے اور بِلاشبہ وہ سعید ہے اور نارجہنم کو اس سے مس کرنا حرام ہے لیکن جس کو وہ محبت عطا نہ ہوئی اور اُس نے اپنے خدا اور اپنی نبی کا قدر شناخت نہیں کیا۔ اُس کا زبانی طور پر مسلمان کہلانا کچھ حقیقت نہیں رکھتا بلکہ نماز وروزہ بھی بجز ذاتی محبت کے اپنی اصل حقیقت سے خالی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے۔یاتی علی امتی زمانہ یصلون و یصومون ویجمعون فی المساجد ولیس ففیھم مسلم۔ یعنی ایک زمانہ وہ آئے گا کہ