کسی کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اس کے لمبے قضیہ کو آپ ہی کوتاہ کر دیتے ہیں اور وہ بوجھ جو اس سے اُٹھائے نہیں جاتے دست غیبی ان کو آپ اُٹھا لیتا ہے۔ پس اسی طرح سے جب بذریعہ علوم لدنیہ و کشوف صادق و الہامات صحیحہ و تائیدات صریحہ انسان پر یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ تمام نفع و ضرر خدا کے اختیار میں ہے اور مخلوق کچھ چیز ہی نہیں تو ایک نہایت کامل یقین سے وہ سمجھ جاتا ہے کہ جو کچھ نفع یا نقصان اور عزت یا ذلت ہے سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور مخلوق کو مردہ کی طرح دیکھتا ہے لیکن اس جگہ اعتراض یہ ہے کہ حضرت مخدومنا شیخ عبدالقادر قدس سرہ نے علوم و معارف الٰہیہ کے حاصل ہونے کا ذریعہ فنا عن الخق وغیرہ اقسام فنا کو ٹھہرایا ہے۔ پس جب کہ فنا کا حاصل ہونا ان علوم کے حاصل ہونے پر موقوف ہے تو اس سے دور لازم آتا ہے۔ سو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ یہ علوم لدنیہ و کشوف صادقہ و تائیدات خاصہ الٰہیہ وتوجہات جلیلہ صمدیہ غیر فانی کو ذاتی طور پر حاصل نہیں ہو سکتے ہیں۔ لیکن بتوسط صحبت شیخ فانی بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ یعنی اگرچہ براہ راست نہیں لیکن سالک اپنے شیخ کامل میں ان تمام تائیدات سماوہ کو معائنہ و مشاہدہ کرتا ہے۔ پس یہی مشاہدہ اس کے یقین کی کمالیت کا موجب ہو جاتا ہے۔ اگر جلدی نہیں تو ایک زمانۂ دراز کی صحبت سے ضرور شکوک و شبہات کے تاریکی دل پر سے اُٹھ جاتی ہے۔ اسی جہت سے فانیوں کی معیت کے لئے قرآن شریف میں سخت تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ اے کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقُوْنَ ھُمْ اَلْفَانُوْنَ لَاْغَیْرِھِمْ اور جو شخص نہ فانی ہے اور نہ فانیوں سے اُس کا کچھ تعلق اور محبت ہے۔ وہ معرض ہلاکت میں ہے اور اس کے سوء خاتمہ کا سخت اندیشہ ہے اور اس کے ایمان کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ الا ان یتدارکہ اللّٰہ برحمۃ۔ دوسری شرط مورد معارف الٰہیہ ہونے کیلئے یہ ہے کہ ہوائے نفس سے انقطاع ہو جائے۔ یعنی سالک پر لازم ہے کہ اپنے تمام حرکت و سکون و قول و فعل میں اوامر اور نواہی میں اللہ کی متابعت اختیار کرے اور کسی حالت میں قَالَ اللّٰہُ وَقَالَ الرَّسُوْلَسے باہر نہ جائے اور کچھ دوسرے لوگ اپنے نفس کی متابعت سے کرتے ہیں۔ وہ اپنے رسول کی متابع سے بجالاوے اور اپنے اعمال اور اقوال میں کوئی ایسی جگہ خالی نہ چھوڑے جس میں نفس کو کچھ دخل دینے کی گنجائش ہو۔