پاک کیا جاتا ہے لیکن متابعت امر کے پیرایہ میں وہ حظ حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ بقایا نفس کے ابھی موجود ہوتے ہیں۔ مگر حالت چہارم میں مقرب کامل کی طرف سے بالکل ارادہ نہیں ہوتا۔ خود خدا تعالیٰ بطور تلطف و احسان کے کسی مابہ الاحتظاظ کو اُس کے لئے میسر کر یتا ہے اور جیسے مادر مہربان اپنے بچے کو جگا کر دودھ پینے کیلئے ہدایت کرتی ہے ویسا ہی وہ اس کوجگا کر کسی حظ کے اُٹھانے کے لئے تحریک کرتا ہے۔ سو وہ تحریک سراسر اُسی کی شفقت سے اور فضل اور عنایت سے ہوتی ہے۔
(۳۰؍ اگست ۱۸۸۳ء مطابق ۲۶؍ شوال ۱۳۲۶ھ)
مکتوب نمبر۲۶
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ہذامحبت نامہ آنمخدوم پہنچا۔ موجب شکر و سپاس ہوا۔ خداوند کریم مقدرات مکروہہ سے آپ کو امن میں رکھے اور آپ کی سعیوں اور کوششوں میں کہ جو آپ خالصاً للہ کر رہے ہیں بہت سی برکتیں بخشے اور بہت سے اجر اُس پر مترتب کرے۔ آمین۔ صفحہ۲۴ فتوح الغیب کی نسبت جو آنمخدوم نے دریافت فرمایا ہے یہ مقام بَین المعنی ہے۔ کوئی عمیق حقیقت نہیں جو کچھ شارح نے لکھا ہے وہ صحیح اور درست ہے۔ حضرت مخدومنا شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ اس مقام میں یہ تعلیم فرماتے ہیں کہ سالک میں حقیقت فنا کی تب محقق ہوتی ہے اور تب ہی وہ اس لائق ہوتا ہے کہ مورد معارف الٰہیہ ہو۔ جب تین طور کا انقطاع حاصل ہو جائے۔
اوّل انقطاع خلق اللہ ہے اور وہ اس طرح پر حاصل ہوتا ہے کہ حکم الٰہی کو جو قضا و قدر ہے۔ تمام مخلوقات پر نافذ سمجھے اور ہر یک بندہ کو پنجہ تقدیر کے نیچے مقہور اور مغلوب یقین کرے لیکن اس جگہ یہ عاجز صرف اس قدر کہنا چاہتا ہے کہ ایسا یقین کہ فی الحقیقت تمام مخلوقات کو کالعدم خیال کرے اور ہر یک حکم خدا کے ہاتھ میں دیکھے اور ہر یک نفع اور ضرر اُسی کی طرف سے سمجھے صرف اپنی ہی تکلیف اور نفع سے حاصل نہیں ہوسکتا اور اگر تکلیف سے اس قدر خیال قائم بھی ہو تو وہ بے بقا ہے اور ادنیٰ ابتلا سے لغزش پیش آ جاتی ہے بلکہ یہ مقام عالی شان اس بصیرت کاملہ سے حاصل ہوتا ہے کہ جو خاص خدا تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ جب عنایات الٰہیہ