حصہ میں آئی ہے۔ وَذٰالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ اور جیسی بصیرت کاملہ ایسی حالت سے مخصوص ہے۔ ایساہی صلاحیت کاملہ بھی اسی حالت سے وابستہ ہے کیونکہ پہلی حالت میں نقصان علمی و عملی سے خالی نہیں ہیں بلکہ نقصان علمی و عملی ان کے لازم حال پڑا ہوا ہے کیونکہ خدا میں اور اُن میں اپنا وجود حائل ہے۔ بس وہی وجود ایک حجاب بن کر علم اور اخلاص کے ناقص رہنے کاموجب ہے لیکن حالت چہارم میں وجود بشری بکلّی اُٹھ جاتا ہے اور کوئی حجاب درمیان میں نہیں رہتا اور اس حالت میں عارف کااَکل و شرب اور ہر یک مابہ الاحتطاظ اور اُس کے شعور اور ارادہ سے نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک پودے کی طرح بے حس و حرکت ہے اور مالک جب مناسب مناسب دیکھتا ہے تو اُس کی آبپاشی کرتا ہے۔ اُس کو اس طرف خیال بھی نہیں آتا کہ کیا کاؤں گا اور کیا پیوں گا اور جیسے ایک بے ہوش کو خواہ کوئی لات مار جائے۔ خواہ پیار دے جائے۔ یکساں ہوتا ہے ایسا ہی جامِ عشق سے مست وہ ہوش ہے اور اپنے نفس کے انتظاموں سے فارغ ہے۔ سو جیسے مادر مہربان اپنے نادان بچے کو وقت پر آپ دودھ پلاتی ہے اور اس کی بالشت نابالشت کی آپ خبر رکھتی ہے ایسا ہی خداوندکریم اس ضعیف اور عاجز بشر کا کہ جو اس کی محبت کے سخت جذبہ سے یکبارگی اپنے وجود سے اور اُس کے نفع و نقصان کے فکر سے کھویا گیا ہے آپ متولی ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے دوستوں کا آپ دوست اور اُس کے دشمنوں کا آپ دشمن بن جاتا ہے اور جو کچھ اُس کو اپنے دوستوں اور دشمنوں سے معاملہ کرنا چاہئے تھا وہ اُس کی جگہ آپ کرتا ہے۔ غرض اُس کے سب کاموں کو آپ سنبھالتا ہے اور اُس کی سب شکست ریخت کی آپ مرمت کرتا ہے اور وہ درمیان نہیں ہوتا اور نہ کسی بات کا خواستگار ہوتا ہے اور یہ جو صفحہ۲۳۰ کے سر پر عبارت ہے۔ فیسا کل بالامر یعنی تیسری حالت کا سالک امر حق کے ساتھ کھاتا ہے اور پھر صفحہ۲۳۱ میں حالت چہارم کے مقرب کی نسبت بھی لکھا ہے۔ فیقال لہ تلبس بانعم والفضل یعنی اس کو بھی کھانے پینے کے لئے امر ہوتا ہے تو ان دونوں امروں میں فرق یہ ہے کہ حالت سیوم میں تو سالک کے نفس میں ارادہ مخفی ہوتا ہے اور اس کا یہ مشرب ہوتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ فلاں حظ کے اُٹھانے کے لئے مجھ کو اجازت فرما دے تو میں اس کو اُٹھاؤں گا اور گو وہ اتباع نفس سے