نفس سخت اژدھا ہے کمزوروں سے وہ قابو میں نہیں آتا اور اگر کچھ مغلوب بھی ہو جاتا ہے تو صرف اس قدر کہ عارضی اور بے بنیاد توبہ توبہ کرتا ہے اور حقیقی سعادت کی تبھی نسیم چلتی ہے کہ جب جذبہ الٰہی شامل حال ہو۔ سو کامل واعظ جو باطنی طور پر بھیجا جاتا ہے جذبہ ہے اور ظاہری طور پر توبہ کا یہ سامان میسر ہو جاتا ہے کہ کسی صالح کی صحبت میسر آ جاتی ہے اور فسق و فجور کی مہلک زہر سے اطلاع ہو جاتی ہے۔ سو یہ دونوں مل کر چکی کے دو پاٹ کی طرح نفس امّارہ کو پیس ڈالتے ہیں اور باجبرواکراہ معاصی اور فسق فجور سے جدا کرتے ہیں۔ سو یہ دوسری حالت ہے کہ جو ترقیات قرب کے راہ میں سالک کو پیش آتی ہیں اور دوسرے لفظوں میں اس حالت کا نام جبروتی حالت ہے کیونکہ وہ جبر اور اِکراہ کے ساتھ نفسانی خواہشوں سے باہر آتا ہے اور جذبہ باطنی اپنے طور پر اور واعظ ظاہری اپنے طور پر اُس پر جبر کرتا ہے اور مالوفات نفسانیہ سے سختی اور درشتی کے طور پر الگ کر دیتے ہیں۔ پھر جب اُس پر صفایت الٰہیاس کو قائم کر دیتی ہے تو اس کے لئے خدا کے حکموں پر چلنا اور اس کی نہی سے پرہیز کرنا آسان کیا جاتا ہے اور شوق اور ذوق اور اُنس سے اُس کو حصہ دیا جاتا ہے۔ پس وہ اس جنت سے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری بلاتکلف اس سے صادر ہوتی ہے اور جو حالتِ دوم میں بوجھ اور ثقل تھا وہ دور ہو جاتا ہے اس لئے وہ ملائک سے تشبہ پیدا کر لیتا ہے اور یہ حالت ملکوتی حالت ہے اور اس حالت میں سامل کا اکل و شرب اور ہر یک مابہ مابہ الاحتظاظ امر سے وابستہ ہوتا ہے۔ یعنی ہوا و ہوس کے اتباع سے بکلّی رستگار ہو جاتا ہے اور وہی بجا لاتا ہے جس کے بجا لانے کے لئے شرعا یا الہاماً مامور ہو اور پھر بعد اس کے حالت چہارم ہے جس کو لاہوتی حالت سے تعبیر کرنا چاہئے اور جب سالک اس حالت تک پہنچ جاتا ہے تو صرف یہی بات نہیں کہ اپنے ہوا ہوس سے خلاصی پاتا ہے بلکہ بکلّی اپنے ہوا و ہوس سے اور نیز اپنے ارادہ سے محو ہو جاتا ہے۔ تب انسان خدا کے ہاتھ میں ایساہوتا ہے جیسا مردہ بدست زندہ ہوتا ہے اور الوہیت اس فانی پر اپنے تجلیات تامہ ڈالتی ہے اور ارادت ربّانی علی وجہ البصیرت اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور وہ خدا کی طرف سے صاحب علم صحیح ہوتا ہے اور ہر یک ابتلا اور آزمائش سے باہر آ جاتا ہے اور یہ مرتبہ ملائک سے برتر ہے۔ ملائک کو یہ حالت چہارم جو غلبہ مشق سے پیداہوتی ہے عطا نہیں ہوتی یہ خاص انسان کے