وقت پہچانا۔ سو اُن کی نہ ارادت قابل اعتبار تھی نہ اب فتح ارادت معتبر ہے۔ ارادت اور فتح ارادت وہی معتبر ہے جو علیٰ وجہ البصیرت ہو اور اگر علی وجہ البصیرت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ مسجد کا زینہ تیار ہو گیا ہے۔ عجب فضل الٰہی ہے کہ شاید پرسوں کے دن یعنی بروز شنبہ مسجد کی طرف نظر کی گئی ہے تو اُسی وقت خداوند کریم کی طرف سے ایک اور فقرہ الہام ہوا اور وہ یہ ہے فِیْہِ بَرَکات للناس۔ یعنی اس میں لوگوں کے لئے برکتیں ہیں۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذالِکَ ہرسہ حصہ کی کتابیں اگرچہ اس وقت زبانی یاد نہیں مگر شاید قریب دو سَو کے کتاب باقی ہوگی۔ وَاللّٰہ اَعْلَمُ صفحہ۳۱ فتوح الغیب کی شرح یہ ہے کہ سالک کا چار حالتوں پر گذر ہوتا ہے اور حالت چہارم سب سے اعلیٰ ہے اور وہی ترقیات قُرب کا انتہائی درجہ ہے جس پر سلسلہ کمالات ولایت کا ختم ہو جاتا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ پہلی حالت وہ حالت ہے کہ جب انسان ناسوتی آلائشوں میں مبتلا ہوتا ہے اور شتر بے مہار کی طرح جو چاہتا ہے کھاتا ہے اور جو چاہتا ہے پیتا ہے اور جس طرف چاہتا ہے چلتا ہے۔ سو وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ ناگاہ حضرت خداوندکریم اُس پر نظر کرتا ہے اور باطنی اور ظاہری طور پر توبہ کا سامان اس کے لئے میسر کر دیتا ہے۔ باطنی طور پر یہ کہ ایک جذبہ قویہ خداوندکریم کی طرف سے اس کے شامل حال ہو جاتا ہے اور وہی جذبہ درحقیقت واعظ باطنی ہے اور اُسی سے فسق و فجور کی زنجیریں ٹوٹتی ہیں اور انسان اپنے نفس میں قوت پاتا ہے کہ تا نفس امّارہ کی پیروی سے دستکش ہو جائے اور اگرچہ پہلے اس سے ایک اور کمزور جیسا واعظ بھی انسان کے نفس میں موجود ہے جو کو لمۃ الملک سے تعبیر کرتے ہیں اور وہ بھی نیکی کیلئے سمجھاتا رہتا ہے اور نیک کام کرنے پر فی الفور گواہی دیتا ہے کہ تو نے یہ اچھا کام کیا ہے اور بَد کام کرنے پر فی الفور گواہی دیتا ہے کہ تو نے یہ بَد کام کیا ہے۔ یہاں تک کہ چور چوری کرنے کے بعد اور زانی زنا کرنے کے بعد اور خونی خون کرنے کے بعد کبھی کبھی باوجود اُن سخت پردوں کے اُس لمۃ الملک کی آواز سن لیتا ہے۔ یعنی اُس کا دل فی الفور اُسے کہتا ہے کہ یہ تو نے اچھا کام نہیں کیا۔ بُرا کیا ہے لیکن چونکہ یہ ضعیف واعظ ہے اس لئے اُس کا وعظ اکثر بے فائدہ جاتا ہے اور اگرچہ اس کے ساتھ کوئی واعظ ظاہری بھی مل جائے یعنی کوئی صالح انسان نصیحت بھی کرے تب بھی کچھ کار براری کی امید نہیں کیونکہ