حاصل ہو۔
گر ایں کفرم بدست آید برو قربان کنم صد دین خداوندا بمیرانم بریں کفرو بریں آئین
حضرت افضل الرسل خیر الرسل فخر الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر اور اس کے پاک اور کامل حدیث اور خدا کا سچا نور اور بلاریب کلام ترک کر کے پھر اور کونسی پناہ ہے جس کی طرف رُخ کریں اور اُس سے زیادہ کون سا چہرہ پیارا ہے جو ہماری دلبری کرے۔
گر مہر خویش برکنم از روئے دلبرم آن مہر برکہ افگنم آن دل کُجا برم
من آں نیم کہ چشم بہ بندم زردے دوست دربینم ایں کہ تیر بیاید برابرم
آپ کسی کی بات کی طرف متوجہ نہ ہوں اور عاشق صادق کی طرح قول اور فعل سے، مدح سے، ثنا سے، متابعت سے فنا فی الرسول ہو جائیں کہ سب برکات اس میں ہیں۔ اکثر لوگوں پر عادت اور رسم غالب ہو رہی ہے اور بڑی بڑی زنجریں پانوں میں پڑی ہوئی ہیں اور کوئی اس طرح آ نہیں سکتا۔ مگر جس کو خدا کھینچ کر لاوے۔ سو صبر سے استقامت سے اُن کے جوروجفا کا تحمل کرنا چاہئے دنیا اُنہیں سے دوستی رکھتی ہے جو دنیا سے مشابہ ہوتے ہیں مگر جو خدا کے بندہ ہیں گو وہ کیسے ہی تنہا اور غریب ہوں تب بھی خدا اُن کے ساتھ ہے اِنَّ اللّٰہَ لَاْیَھْدِیْ مِنْ ھُوْ مُسْرِفُ کَذَّابُ۔ آپ کے سب دوستوں کو سلام مسنون پہنچے۔
(۱۹؍ اگست ۱۸۸۳ء مطابق ۱۹؍ شوال ۱۳۰۰ھ)
مکتوب نمبر۲۵
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ عاجز دعا سے غافل نہیں مگر ہر ایک امر وقت پر موقوف ہے اور آپ میں آثار سعادت اور رُشد کے ظاہر ہیں کہ آپ کی حقیقت بینی پر نظر ہے اور صدق اور وفا اور حسن ظن کا خلق موجود ہے۔ پس یہ وہ چیزیں ہیں جس کو مولیٰ کریم کی طرف سے عطا کی جاتی ہیں۔ اس کے لئے استقامت کا عطا ہونا ساتھ ہی مقدر ہوتا ہے۔ خداوند تعالیٰ بغایت درجہ کریم و رحیم ہے۔ وہ جس دل میں ایک ذرّہ بھی اخلاص اور صدق پاتا ہے اُس کو ضائع نہیں کرتا۔ آپ بعض اپنے دوستوں کے تغیر حالت سے دل شکستہ نہ ہوں۔ مولوی صاحب کی وہ حالت ہے کہ نہ اُنہوں نے ارادت کے وقت اس عاجز کو شناخت کیا اور نہ فتح ارادت کے