لڑتے مرتے ہیں اور اس حقیقت اور حق بینی سے انسان کا دل منور ہوتا ہے اور جس دولت اور سعادت سے باطنی افلاس دور ہوتا ہے اس کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے کیا بدقسمتی ہے۔ ہائے! ہائے! خلق و عالم جملہ در شور و شراند عشق بازاں در مقام دیگر اند گرد لازیں کوچہ بیرون نگذریم ہم سگان کوچہ از ما بہتراند خداایسا نہیں کہ دھوکا کھا سکے۔ اس کی دلوں پر نظر ہے اور حقیقتوں پر نگاہ ہے۔ وہ رسموں اور عادتوں سے ہرگز خوش نہیں ہوتا اور جب تک بندہ مقام اخلاص کا حاصل نہ کرے۔ یعنی مرنے سے پہلے ہی نہ مرے اور افاقی اور انفسی شرکوں سے بکلّی باہر نہ آوے تب تک الطاف اللہ اس کی طرف ہرگز متوجہ نہیں ہوتیں۔ تب ہی کمال ایمان میسر آتا ہے کہ جب وہ موت کو جس کو ابھی میں نے اخلاق سے تعبیر کیا ہے اور حقیقت اسلام بھی تبھی اپنا چہرہ مصفا دکھاتی ہے کہ جب یہ موت حاصل ہو جائے۔ حق تعالیٰ ہم کو اور آپ کو اور ہر یک کو جو طالب ہے اس اخلاص سے بہرہ مند کرے۔ زمانہ سخت زہرناک ہوائیں چلا رہا ہے جس سے تمام کاروبار منقلب ہوا جاتا ہے۔ ہر یک بات مالک حقیقی کے اختیار میں ہے۔ ہم عاجز بندوں کا کام عبودیت ہے۔ فتح اور شکست سے مطلب نہیں۔ عبدویت سے مطلب ہے۔ اس راہ میں جنہوں نے بہت سی خدمتیں کیں پھر بھی وہ سیر نہ ہوئے پھر ہمیں کیونکر آرام ہو جنہوں نے اب تک کچھ بھی نہیں کیا۔ سو ہمارا سب غم اور حزن خدا کے سامنے ہے۔ ابھی وہ حال ہے کہ جو صرف بیرونی حملوں پر کفایت نہیں بلکہ بعض ناشناس بھائی اندرونی حملے بھی کر رہے ہیں لیکن ہم عاجز بندوں کی کیا حقیقت اور بضاعت ہے۔ وہی ایک ہے جس نے اپنے عاجز اور ناتوان بندہ کو ایک خدمت کے لئے مامور کیا ہے۔ اب دیکھئے کہ کب تک اس ربّ العرش تک اس عاجز کی آہیں پہنچتی ہیں۔ آپ نے لکھا تھا کہ بعض احباب علماء کی طرف سے یہ فتویٰ لائے ہیں کہ اتباع قال اللہ وقال الرسول اور ترجیح اُس کی دوسرے لوگوں پر کفر ہے مگر یہ بندہ عاجز کہتا ہے کہ زہے سعادت کہ کسی کو یہ کفر