کی باتیں اوپر تعصب خیالات اس کے سینہ میں جمع ہوئے ہیں۔ اصل میں وہی اس کا دین ہوتا ہے جس کو کسی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتا اور جب جذبۂ عشق اس پر غالب آتا ہے تو وہ خیالات کو جو تپ دِق کی طرح رگ و ریشہ سے ملے ہوئے ہوتے ہیں بآسانی چھوٹ جاتے ہیں اور بعد اس کے عشق الٰہی ایک پاک دین تعلیم کرتا ہے کہ جو عادت اور رسم کی آلودگی سے منزہ ہے اور تعصبات کے لوث سے پاک ہے۔ بس نافع اور مبارک دین یہی ہوتا ہے جو عشق کے بعد آتا ہے اور جو عشق کے اوّل خیالات ہیں۔ وہ بہت ہی زہروں سے بھری ہوئے ہوتے ہیں اور حقیقت میں وہ اسی لائق ہیں کہ عشق پر فدا کئے جائیں اور اُن کے عوض میں وہ پاک خیال کہ جو عشق کے صافی چشمہ سے نکلے ہیں اور جو ہر یک تعصب اور رسم اور عادت سے منزہ ہیں حاصل کئے جائیں اور خیالات ایسی سختی سے نفس پر قابض ہوتے ہیں کہ بغیر جذبۂ عشق کے ہرگز ممکن ہی نہیں کہ اُٹھ سکیں۔ مدار کار جذبہ عشق پر ہے جو قلب پر مستولی ہوتا ہے اور جب وہ مستولی ہوتا ہے تو نفس اپنی اندرونی آلائش سے پاک ہو جاتا ہے اور نفس کے چھپے ہوئے جو عیب تھے اُس سے دور ہوتے ہیں کہ جب عشق الٰہی کے بھڑکتے ہوئے آگ دل پر وارد ہوتی ہے۔ نقد اعمال صالحہ جن پر کشود کار موقوف ہے تب ہی صادر ہوتے ہیں کہ جب اُن کو حرکت دینے والا عشق ہوتا ہے کوئی اور غرض فاسد نہیں ہوتی اور مجرد اعمال صوری اور عبادات رسمی سے کوئی عقدہ نہیں کھلتا بلکہ جب تک سالک رسم اور عادت کی بدبودار مزبلہ سے باہر نہیں آتا مورد غضب الٰہی رہتا ہے کیونکہ وہ خدا کی طرف سے منہ پھیر رہا ہے اور اُس کے غیر کی طرف متوجہ ہے۔ وجہ یہ کہ رسم اور عادت بھی ماسوا اللہ ہے اور ہر یک ماسوا اللہ خدا سے دور ڈالتا ہے اور سلامتی قلب میں خلل انداز ہے۔ سو سالک کے لئے جو بات سب سے پہلے لازم ہے وہ یہی ہے کہ رسم اور عادت سے باہر ہو اور پھر خلوص نیت سے مااتاکم الرسول فخذوہ وما نھا کم عنہ فانتھو پر عمل کرے تا شفا پاوے اور ایمان حقیقی سے حصہ حاصل کرے مگر افسوس کہ بہت سے علماء ظاہری اسی سے تباہ ہو رہے ہیں کہ رسوم اور عادات کے رنگ میں ایک دوسرے سے