تجلی نہیں فرماتیں اور کبھی جلال کبھی جمال اور کبھی قد اور کبھی لطف ہوتا ہے۔ غرض ان دونوں قسموں کے حجابوں سے جو شخص باہر آ جائے اور اپنے مولیٰ حقیقی سے ذاتی طور پر محبت پیدا ہو جس کو کوئی چیز روک نہ سکے اور منجملہ ظاہری اور باطنی اور افاقی اور انفسی حجابوں کے کوئی حجاب باقی نہ رہے تو یہ وہ مرتبہ ہے جس کو تبتل تام کہناچاہئے۔ اس مرتبہ کا خاصہ ہے کہ انعام اور ایلام محبوب کا ایک ہی رنگ میں دکھائے دیتا ہے بلکہ بسا اوقات ایلام سے اور بھی زیادہ محبت بڑھتی ہے اور پہلی حالت سے آگے قدم بڑھتا ہے۔ بات یہ ہے کہ جب محبت ذاتی کی موجیں جوش میںآتی ہیںتو اسماء اور صفات پر نظر نہیں رہتی اور انسان کا سارا آرام محبوب حقیقی کی یاد میں ہو جاتا ہے اور وجہ اللہ کا تعلق ذات باری کی بیچون اور بیچگون ہوتا ہے اور محب صادق کسی کو اس بات کی وجہ نہیں بتلا سکتا کہ کیوں وہ اس محبوب سے محبت رکھتا ہے اور کیوں اس کے لئے بدل و جان فدا ہو رہا ہے اور اس محبت اور اطاعت اور جاں فشانی سے اُس کے غرض کیا ہے کیونکہ وہ ایک جذبہ الٰہی ہے جو بطور موہیت خاصہ محب صادق پر پڑتا ہے ۔ کوئی مصنوعی بات نہیں جس کی وجہ بیان ہو سکے۔ یہی انقطاع حقیقی اور تبتل تام کی حالت ہے اور یہی وہ موت روحانی ہے جس کی اہل اللہ کے نزدیک فناء سے تعبیر کی جاتی ہے کیونکہ اس مرتبہ پر نفس امّارہ کا بکلّی تزکیہ ہو جاتا ہے اور بباعث محبت ذاتی کے اپنے مولیٰ کریم کی ہر یک تقدیر سے موافقت تامہ پیدا ہو جاتی ہے اور جو کچھ اس دوست کے ہاتھ سے پہنچتا ہے پیار ا معلومہوتا ہے اور اس کا قہر اور لطف سب لطف ہی دکھائی دیتا ہے اور حقیقت میں وہ سب لطف ہی ہوتا ہے۔ ہر محب صادق نہ قہر سے غرض رکھتا ہے نہ لطف سے۔
غریق ورطۂ بحر محبت
نہ بر مہرش نظر باشد نہ برکیں چناں رویش خوش افتد ارسر عشق
کہ قرباں میکند بردے دل و دین شب و روزش بدیں سرکار باشد
دل و جانش شودآں یار شیریں بسوز دہر چہ غیر یار باشد
ہمیں ایں عشق را رسم است و آئین اور اس عاجز کا یہ مصرع کہ
قربان میکند بروے دل و دین
یہ معنی رکھتا ہے کہ قبل از جذبہ عشق جو کچھ انسان کے دل میں رسوم اور عادات بھری ہوئی ہوتی ہیں اور کچھ جو جہل مرکب