آن مخدوم کا عنایت نامہ عین انتظاری کی حالت میں پہنچا۔ خداوند کریم کے تفضلات اور احسانات کا کہاں تک شکر کروں اور کیونکر اُس کی نعمتوں کا حق بجا لاؤں کہ اس پر ظلمتِ زمانہ میں مجھ جیسے غریب، تنہا، نالائق، بے ہُنر کے لئے آپ جیسے مخلص دوست اُس نے میسر کئے۔ سو اُسی سے میں یہ بھی دعا مانگتا ہوں کہ آپ کو اپنے الطاف جلیہ اور خفیہ سے متمتع کرے اور اپنے توجہات خاصہ سے دستگیری فرماوے اور اپنی طرف انقطاع کامل اور تبتل تام بخشے۔ آمین ثم آمین۔ اور یہ تبتل تام جس کی آپ تشریح دریافت بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک بڑا مقام اعلیٰ ہے جو بغیر فنائے اَتم کے کامل طور پر حاصل نہیںہوتا بلکہ فی الحقیقت اسی کا نام فنائے اَتم ہے جو تبتل تام حاصل ہو جائے اور تبتل تام تب حاصل ہوتا ہے کہ جب ہر یک حجاب کا خرق ہو کر رابطہ انسان کا محبت ذاتی تک پہنچ جائے۔ حجاب دو قسم کے ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو بدیہی طور پر معلوم ہوتے ہیں اور کچھ نظر اور فکر کی حاجت نہیں۔ جیسے خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف توجہ کرنا۔ مخلوق سے مرادیں اور حاجات مانگنا اور مخلوق کا اپنا تکیہ گاہ اور پناہ سمجھنا۔ اپنے ننگ اور ناموس اور عزت اور نام کی حفاظت میں مبتلا رہنا اور بجز ایک متصرف حقیقی کے کسی سے خوف یا کسی پر کچھ امید رکھنا اور زید عمرو کے وجود کو وجود سمجھنا کسی کو کارخانہ الوہیت کا شریک سمجھ کر حق الوہیت میں شریک ٹھہرا دینا۔ عبادات یا اعتقادات میں کسی کو خدا تعالیٰ کی طرح خیال کرنا۔ حضرت باری کے امر اور نہی کو توڑ کر اپنے نفس کی خواہشوں کا تابع ہونا اور نفس امّارہ کی پیروی کرنا اور بندی اور فرمانبرداری کی حد پر نہ ٹھہرنا۔ یہ تو وہ سب حجب ہیں جو بدیہی ہیں جو عام طور پر ہر یک کو سمجھ آ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ فطرت صحیحہ میں کچھ خلل نہ ہو۔ دوسری قسم کے حجاب وہ ہیں جو نظری ہیں۔ جن کے سمجھنے کے لئے کامل درجہ پر عقل سلیم اور فہم مستقیم چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اسماء اور صفات الٰہیہ تک رابطہ محدود رہے اور ذات بحت سے حقیقی طور پر تعلق حاصل نہ ہو۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی عبادت بغرض حصول اُس کے انعام و اکرام کے کرتا رہے وہ ہنوز اسماء و صفات الٰہیہ پر نظر رکھتا ہے اور محبت ذاتی کے شربت عذب سے ابھی کچھ اُسے نصیب نہیں اور اس کا رابطہ معرض خطر میں ہے کیونکہ اسماء و صفات الٰہیہ ہمیشہ ایک ہی رنگ میں