ہندؤوں اور عیسائیوں میں کئی لوگ ریاضت اور جوگ میں محنت کرتے ہیںکہ جس سے اُن کا جسم خشک ہو جاتا ہے اور برسوں جنگلوں میںکاٹتے ہیںاور ریاضاتِ شدیدہ بجا لاتے ہیں۔ لذات سے بکلّی کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ انوارِ خاصہ اُن نصیب نہیں ہوتے کہجو مسلمانوں کو باوجود قلت ریاضت اور ترک رہبانیت کے نصیب ہوتے ہیں۔ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ صراطِ مستقیم وہی ہے جس کی تعلیم قرآن شریف کرتا ہے۔ بلاشُبہ یہ سچ بات ہے کہ اگر کوئی توبہ نصوح اختیار کر کے دس روز بھی قرآنی منشاء کے بموجب مشغولی اختیار کرے تو اپنے قلب پر نور نازل ہوتا دیکھے گا یہ خصوصیت دین اسلام کی بلا استعمال نہیں۔ صدہا پاک باطنوں نے اسی راہ سے فیض پایا ہے۔ جو لوگ سچے دل سے یہ راہ اختیار کرتے ہیں خدا اُن کو ہرگز ضائع نہیںکرتا اور اُن میں وہ انوار پیدا کر دیتا ہے جس سے ایک عالم حیران رہ جاتا ہے۔ بجز اس کے سب حجاب ہیں جو اُن لوگوں کو پیش آئے جن کا سلوک کمال تک نہیں پہنچا تھا۔ کاش! اگر وہ زندہ ہوتے تو انکی حقیقت ان کے تابعین پر کھل جاتی۔ کئی ایسے مُردے ہیں جن کی بیہودہ تعریفیں کی گئی ہیں لیکن کاملوں کا نشان یہی ہے کہ وہ اپنے نبی معصوم کی پوری پوری متابعت اختیار کرتے ہیں اور اُس کی محبت میں محو ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم میں صریح فرق ہے اور کوئی ایسا طالب نہیں جس پر یہ فرق ظاہر نہ ہو سکے۔ پھر مشکل تو یہ ہے کہ بعض لوگ طالب ہی نہیں ہیں۔ دُنیا کے لئے کچھ محنت نہیںکرتے۔ ایک پیسہ کا برتن بھی دیکھ بھال اور ٹھوک بجا کر لیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی ٹوٹا ہوا نکلے لیکن دین کا کام صرف زبان کے حوالہ کر رکھا ہے اور فعل کے سچے امتحان سے اس کو نہیں آزماتے اور آنکھ کھول کر نہیں دیکھتے اور دلی اخلاص سے طالب بن کر جستجو نہیں کرتے۔ وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔ وسلام علیکم وعلی کل من اتبع الھدی۔ (یکم اگست ۱۸۸۳ء مطابق ۲۷؍ رمضان ۱۳۰۰ھ) مکتوب نمبر۲۴ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ