اور گیتا اُردو میں ترجمہ کی ہوئی جا بجا موجود ہے اور ایک ہندو نے اُس کو نظم میں بھی کر دیا ہے اور شام وید اور تھرین وید بھی کچھ پوشیدہ کتابیں نہیں ہیں۔ آج کل آریہ سماج والوں کی ستاویز بھی یہی کتابیںہیں اور یہ شام اور اتھرین اور رگ اور یجر دیانند کے پاس موجود ہیں اور اس کے وید بھاش ماہ بماہ چھپتے ہیں۔ ایک طرف انگریزوں نے بھی ویدوں کو انگریزی میں ترجمہ کر دیا ہے برہمو سماج والے بھی ویدوں کی حقیقت پر بکلی ماہر ہیں۔ کچھ حصہ وید کا اُردو میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے اب کیا یہ ممکن ہے کہ یہ تمام لوگ اتفاق کر کے ایک پیشگوئی جو وید میں صریح وارد ہوچکی تھی چھپاتے۔ ہرگز ممکن نہیں۔ وید کے محققوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وید میں کسی قسم کی پیشگوئی نہیں یہاں تک کہ پنڈت دیانند کا مقولہ ہے کہ وید میں رام چندر و کرشن وغیرہ کے پیدا ہونے کی بابت بھی کوئی تذکر نہیں اور یہ بات اور بھی عجیب ہے کہ پہلے منشی صاحب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور و بعثت کی خبر ویدوں میں لکھی ہے۔ پھر اب یہ دعویٰ ہے کہ وہ خبر پورانوں اور پوتھیوں میں بھی لکھی ہے یہ اچھا ہوا کہ منشی صاحب کو بحث مباحثہ کا شوق نہیں ورنہ پنڈتوں اور انگریزوں اور برہمو سماج والوں کے روبرو بڑی ندامتیں اُٹھاتے۔ اب آپ اس تذکرہ کو طول نہ دیں اور ان کے حق میں دعائے خیر کریں اور جو کچھ منشی صاحب نے کلمات الحاد آمیر لکھے ہیں اور اُن کی تائید میں شعروں کا حوالہ دیا ہے۔ اُن کے جواب میں بجز اس کے کیا لکھا جائے کہ اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ اُمَّتِ مَحَمَدَّ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ان الذین عند اللّٰہ الاسلام ومن یتبغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھوفی الاخرۃ من الخسرین
سچا رہنما قرآن شریف ہے اور اُس کی پیروی اسی جہان میں نجات کے انوار دکھلاتی ہے اور سعادت عظمی تک پہنچاتی ہے مَن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی واضل سبیلا۔ جومعارف حصہ کے حصول کے لئے پوری پوری کوشش کرے اور صرف قیل و قال میں بہت پھنسا نہ رہے۔ اُس پر بخوبی واضح ہو جائے گا کہ باطنی نعمتوں کے حاصل کرنے کیلئے ایک ہی راہ ہے۔ یعنی یہ کہ متابعت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اختیار کی جائے اور تعلیم قرآنی کو اپنا مُرشد اور رہبر بنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ