لکھتے ہیں کہ ویدوں میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی بشارت ہے ان باتوں کو منشی صاحب پوشیدہ رکھیں تو بہتر ہے تا مخالف خواہ نخواہ ہنسی نہ کریں۔ ان دنوں میں وید کوئی ایسی چیز نہیں کہ کسی جگہ دستیاب نہ ہو۔ جا بجا کتب فروشوں کی دوکان میں پائے جاتے ہیں۔ صدہا آدمی وید خوان ہیں۔ یہاں تک کہ اس عاجز کے گاؤں کے قریب ایک دہقان چاروں وید پڑھ کر آ گیا ہے اور وید اُس کے پاس مجوود ہیں۔ کئی دفعہ اُس کا مجھ سے مباحثہ بھی ہوا ہے۔ رگوید اس عاجز کے پاس بھی موجود ہے اور پنڈت دیانند اور بعض اور پنڈتوں کے کچھ کچھ اجزا وید بھاش کے بھی موجود ہیں اور انگریزوں نے بھی بڑی محنت سے ویدوں کو ترجمہ کیا ہے۔ منشی صاحب کا خیال مجھ کو اس قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ جو ابوالفضل نے آئین اکبری میں ایک قصہ لکھا کہ اکبر بادشاہ کے وقت دکھن کی طرف سے ایک پنڈت آیا اور اُس کا دعویٰ تھا کہ ویدوں میں کلمہ شریف لکھا ہوا ہے۔ بادشاہ نے بڑے بڑے پنڈت اکٹھے کئے، تاویلیں دیکھیں کہ اگر فی الحقیقت کلمہ طیبہ وید میں لکھا ہوا ہے تو ہندوؤں کی ہدایت کے لئے یہ بڑی حجت ہوگی۔ جب پنڈت جمع ہوئے اور اُن کو وہ متوقع دکھایا گیا تو اُس کے کچھ اور ہی معنی نکلے۔ جس کو کلمہ طیبہ سے کچھ علاقہ نہیں۔ تب بڑی ہنسی ہوئی اور وہ پنڈت جو ایسا دعویٰ کرتا تھا بڑا شرمندہ ہوا۔ آپ کی تاکید کی وجہ سے یہ لکھا گیا۔ نواب محمد علی خان صاحب کو کسی اور موقعہ پر اس عاجز کی طرف سے تعزیت کریں۔ دنیا مصیبت خانہ ہے۔ خداوند کریم اس مصیبت عظمیٰ کا اُن کو اجر بخشے اور صبر جمیل عطا فرماوے۔ (۱۱؍ جولائی ۱۸۸۳ء مطابق ۶؍ رمضان ۱۳۰۰ھ) مکتوب نمبر۲۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ منشی صاحب کے خیالات اگرچہ بہت ہی حیرت انگیز ہیں پر اُس پُر فتنہ زمانہ میں جائے تعجب نہیں۔ خداوندکریم رحم کرے۔ منشی صاحب جو ہندؤوں کی کئی کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ اُن کو یہ بھی خبر نہیں کہ اکثر ان کتابوں میں سے اُردو میں بھی ترجمہ ہوچکی ہیں اور منوکادہرم شاستر تو سرکاری طور پر ترجمہ ہو کر وکلا کی امتحانی کتابوں میں داخل ہے