راستبازوں کو چھوڑ دیا اور پکے دشمن بن گئے مگر بعد میں پھر کوئی کرشمہ قدرت دیکھ کر پشیمان ہوئے اور زار زار روئے اور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور رجوع لائے۔ انسان کا دل خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اُس حکیم مطلق کی آزمائشیں ہمیشہ ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ سو میر صاحب کسی پوشیدہ خامی اور نقص کی وجہ سے آزمائش میں پڑ گئے اور پھر اس ابتلا کے اثر سے جوش ارادت کے عوض میں قبض پیدا ہوئی اور پھر قبض سے خشکی اور اجنبیت اور اجنبیت سے ترکِ ادب اور ترک ادب سے ختم علی القلب اور ختم علی القلب سے جہری عداوت اور ارادہ تحقیر و استحقاق و توہین پیدا ہو گیا۔ عبرت کی جگہ ہے کہ کہاں سے کہاں پہنچے کیا کسی کے وہم یا خیال میں تھا کہ میر عباس علی کا یہ حال ہوگا۔ مالک الملک جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ میرے دوستوں کو چاہئے کہ اُن کے حق میں دعا کریں اور اپنے بھائی فرد ماندہ اور درگذشتہ کو اپنی ہمدردی سے محروم نہ رکھیں اور میں بھی انشاء اللہ لکریم دعا کروں گا۔ میں چاہتا تھا کہ اُن کے چند خطوط بطور نمونہ اس رسالہ میں نقل کر کے لوگوں پر ظاہر کروں کہ میری عباس علی کا اخلاص کس درجہ پر پہنچا تھا اور کس طور کی خوابیں وہ ہمیشہ ظاہر کیا کرتے تھے اور کن انکساری الفاظ اور تعظیم کے الفاظ سے وہ خط لکھتے تھے لیکن افسوس کہ اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں۔ انشاء اللہ القدیر کسی دوسرے وقت میں حسبِ ضرورت ظاہر کیا جائے گا۔ یہ انسان کے تغیرات کا ایک نمونہ ہے کہ وہ شخص جس کے دل پر ہر وقت عظمت اور ہبیت سچی ارادت کی طاری رہتی تھی اور اپنے خطوط میں اس عاجز کی نسبت خلیفۃ اللہ فی الارض لکھا کرتا تھا آج اس کی کیا حالت ہے۔ پس خدا تعالیٰ سے ڈرو اور ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ وہ محض اپنے فضل سے تمہارے دلوں کو حق پر قائم رکھے اور لغزش سے بچاوے۔ اپنی استقامتوں پر بھروسہ مت کرو۔ استقامت میں کوئی فاروق رضی اللہ عنہ سے کوئی بڑھ کر ہوگا جن کو ایک ساعت کے لئے ابتلا پیش آ گیا تھا اور اگر خدا تعالیٰ کاہاتھ اُن کو نہ تھامتا تو خدا جانے کیا حالت ہو جاتی۔ مجھے اگرچہ میر عباس علی صاحب کی لغزش سے رنج بہت ہوا لیکن پھر میں دیکھتا ہوں کہ جب کہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نمونہ پر آیا ہوں تو یہ بھی ضرور تھا کہ میرے بعض رعیان اخلاص کے واقعات میں بھی وہ نمونہ ظاہر ہوتا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعض خاص دوست جو اُن کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے جن کی تعریف میں وحی الٰہی بھی ہوگئی تھی۔ آخر حضرت مسیح علیہ السلام سے منحرف ہوگئے تھے۔ یہودا اسکریوطی کیسا گہرا دوست حضرت مسیح کاتھا جو اکثر ایک ہی پیالہ میں حضرت مسیح کے ساتھ کھاتا اور بڑے پیار کا دَم مارتا تھا جس کو بہشت کے بارہویں تخت کی خوشخبری بھی دی گئی تھی