اور میاں پطرس کیسے بزرگ حواری تھے جن کی نسبت حضرت مسیح نے فرمایا تھاکہ آسمان کی گنجیاں اُن کے ہاتھ میں ہیں جن کو چاہیں بہشت میں داخل کریں اور جن کو چاہیں نہ کریں۔ لیکن آخرمیاں صاحب موصوف نے جو کرتوت دکھائی وہ انجیل پڑھنے والوں پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہو کر اور اُن کی طرف اشارہ کر کے نعوذ باللہ بلند آواز سے کہا کہ میں اس شخص پر لعنت بھیجتا ہوں۔ میر صاحب ابھی اس حد تک کہاں پہنچے ہیں کل کی کس کو خبر ہے کہ کیا ہو۔ میر صاحب کی قسمت میں اگرچہ یہ لغزش مقدر تھی اور اصلہا ثابت کی ضمیر ثابت بھی اُس کی طرف ایک اشارہ کر رہی تھی۔ لیکن بٹالوی صاحب کی وسوسہ اندازی نے اور بھی میر صاحب کی حالت کو لغزش میں ڈالا۔ میر صاحب ایک سادہ آدمی ہیں جن کو مسائل دقیقہ دین کی کچھ بھی خبر نہیں۔ حضرت بٹالوی وغیرہ نے مفسدانہ تحریکوں سے ان کو بھڑکا دیا کہ دیکھو فلاں کلمہ عقیدہ اسلام کے برخلاف اور فلاں لفظ بے ادبی کا لفظ ہے۔ مَیں نے سنا ہے کہ شیخ بٹالوی اس عاجز کے مخلصوں کی نسبت قسم کھا چکے ہیں کہ لاغوینھم اجمعین۔ اور اس قدر غلوہے کہ شیخ نجدی کا استثنا بھی اُن کے کلام میں نہیں پایا جاتا۔ تاصالحین کو باہر رکھ لیتے اگرچہ وہ بعض روگردان ارادت مندوں کی وجہ سے بہت خوش ہیں مگر اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایک ٹہنی کے خشک ہو جانے سے سارا باغ برباد نہیں ہو سکتا۔ جس ٹہنی کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے خشک کر دیتا ہے اورکاٹ دیتا ہے اور اس کی جگہ اور ٹہنیاں پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی پیدا کر دیتا ہے۔ بٹالوی صاحب یاد رکھیں کہ اگر اس جماعت سے ایک نکل جائے گا تو خدا تعالیٰ اُس کی جگہ بیس لائے گا۔ اور اس آیت پر غور کریں۔ فسوف یاتی اللّٰہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکفرین۔ بالآخر ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ میری عباس علی صاحب نے ۱۲؍ دسمبر ۱۸۹۱ء میں مخالفانہ طور پر ایک اشتہار بھی شائع کیا ہے جو ترک ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔ سو اُن الفاظ سے تو ہمیں کچھ غرض نہیں جب دل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے لیکن اُس اشتہار کی تین باتوں کا جواب دینا ضروری ہے۔ اوّل: یہ کہ میر صاحب کے دل میں دہلی کے مباحثات کا حال خلاف واقعہ جم گیا ہے سو اُس وسوسہ کے دور کرنے کیلئے میرا یہی اشتہار کافی ہے بشرطیکہ میر صاحب اس کو غور سے پڑھیں۔