اگر وہی نہ ہوئی تو دوسری خوبیاں ہیچ ہیں۔ علاوہ اس کے یہ الہام اُس زمانہ کاہے کہ جب میر صاحب میں ثابت قدمی موجود تھی۔ زبردست طاقت اخلاص کی پائی جاتی تھی اور اپنے دل میں بھی وہ یہی خیال رکھتے تھے کہ میں ایسا ہی ثابت رہوں گا۔ سو خدا تعالیٰ نے اُن کی اُس وقت کی حالت موجودہ سے خبر دے دی۔ یہ بات خدا تعالیٰ کی وحی میں شائع متعارف ہے کہ وہ موجودہ حالت کے مطابق خبر دیتا ہے۔ کسی کے کافر ہونے کی حالت میں اُس کا نام کافر ہی رکھتا ہے اور اُس کے مومن اور ثابت قدم ہونے کی حالت میں اُس کا نام مومن اور مخلص اور ثابت قدم ہی رکھتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے کلام میں اس کے نمونے بہت ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ میری صاحب موصوف عرصہ دس سال تک بڑے اخلاص اور محبت اور ثابت قدمی سے اس عاجزکے مخلصوں میں شامل رہے اور خلوص کے جوش کی وجہ سے بیعت کے وقت نہ صرف آپ اُنہوں نے بیعت کی بلکہ اپنے دوسرے عزیزوں اور رفیقوں اور دوستوں اور متعلقوں کو بھی اس سلسلہ میں داخل کیا اور اس دس سال کے عرصہ میں جس قدر اُنہوں نے اخلاص اور ارادت سے بھرے ہوئے خط بھیجے۔ اُن کا اس وقت میں اندازہ بیان نہیں کر سکتا۔ لیکن دو سَو کے قریب اب بھی اُن کے ایسے خطوط موجود ہوں گے جن میں اُنہوں نے انتہائے درجہ کے عجز اور انکسار سے اپنے اخلاص اور ارادت کا بیان کیا ہے بلکہ بعض خطوط میں اپنی وہ خوابیں لکھی ہیں جن میں گویا روحانی طور پر اُن کو تصدیق ہوئی ہے کہ یہ عاجز من جانب اللہ ہے اور اس عاجز کے مخالف باطل پر ہیں اور نیز وہ اپنی خوابوں کی بنا پر اپنی معیت دائمی ظاہر کرتے ہیں کہ گویا وہ اس جہان اور اُن جہان میں ہمارے ساتھ ہیں۔ ایسا ہی لوگوں میں بکثرت اُنہوں نے یہ خوابیں مشہور کی ہیں اور اپنے مریدوں اور مخلصوں کی بتلائیں۔ اب ظاہر ہے کہ جس شخص نے اس قدر جوش سے اپنا اخلاص ظاہر کیا ایسے شخص کی حالت موجودہ کی نسبت اگرخدا تعالیٰ کا الہام ہو کہ یہ شخص اس وقت ثابت قدم ہے متزلزل نہیں توکیا اس الہام کو خلاف واقعہ کہا جائے گا۔ بہت سے الہامات صرف موجودہ الہامات جو حالات کے آئینہ ہوتے ہیں۔ عواقب امور سے اُن کو کچھ تعلق نہیں ہوتا اور نیز یہ بات بھی ہے کہ جب ک انسان زندہ ہے اُس کے سوء خاتمہ پر حکم نہیں کر سکتے کیونکہ انسان کا دل اللہ جل شانہٗ کے قبضہ میں ہے۔ میر صاحب تو میر صاحب ہیں اگر وہ چاہے تو دنیا کے ایک بڑے سنگدل اور مختوم القلب آدمی کو ایک دم میں حق کی طرف پھیر سکتا ہے۔ غرض یہ الہام حال پر دلالت کرتا ہے۔ مآل پر ضروری طور پر اُس کی دلالت نہیں ہے اور مآل ابھی ظاہر بھی نہیں ہے۔ بہتوں نے