جو ہر سال ہزار ہا جاتے ہیں اور پکار پکار کر مرادیں مانگتے ہیں۔ یہ بات بھی مرزا صاحب سے چھپی رہی اور اسی طرح وہ صدہا کتابیں ہندوؤں کی جنہوں نے خود اپنی بُت پرستی کا اقرار کیا ہے اور اپنے دیوتاؤں اور بتوں وغیرہ سے مرادیں مانگنے کے طریق لکھے ہیں اگر اُن میں سے کوئی کتاب مرزا صاحب کی نظر میں سے گزر جاتی تو میں خیال کرتا ہوں کہ مرزا صاحب موصوف بہت ہی شرمندہ ہوتے۔ مگر بالآخر مجھکو یہ بھی خیال آتا ہے کہ غالباً یہ مکتوب کسی اور شخص نے لکھ کر مرزا صاحب کی طرف نسبت کر دیا ہے کیونکہ یہ بات عام طور پر چلی آتی ہے کہ اکثر اہل غرض اپنی تحریروں کو بعض اکابر کی طرف منسوب کرتے رہے ہیں تا اُن کی مقبولیت کی وجہ سے وہ تحریریں بِلا عذر قبول کی جائیں۔ بہرحال اب ہم اس حظ کو دعا پر ختم کرتے ہیں اور مرزا صاحب کے معتقدین کو برادرانہ نصیحت دیتے ہیں کہ وہ ایسے خیالات دور از صداقت و دیانت مرزا صاحب کی طرف منسوب نہ کریں۔
ربنا اغفرلنا ذنوبنا ولا اخواننا الذین سبقونا بالایمان وصل علی نبیک وحییک محمدٍ وآلہٖ وسلم وتوفنا فی امتواتبعنا فی امۃٍ واٰتنا ما وعدت لا امۃٍ بنا أتنا امنا فاکتبنافی عبادک المومنین ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فمن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ لمن الخاسرین۔ خاکسار
غلام احمد ۔ از قادیان ضلع گورداسپور
(بتاریخ ہشتم ماہ رمضان المبارک ۱۳۰۲ھ مطابق ۲۲؍ جون ۱۸۸۵ء)
خاتمہ از مرتب
یہ مجموعہ مکتوبات احمدیہ کی پہلی جلد ہے اور یہاں ختم کی جاتی ہے لیکن میں اس کو ناتمام سمجھوں گا اگر میر عباس علی شاہ صاحب کے بعد کے واقعات اور حالات کا یہاں ذکر نہ کروں۔ میر عباس علی شاہ صاحب لودہانہ کے رہنے والے تھے اور حضرت اقدس مسیح علیہ السلام کی تالیف براہین احمدیہ کے زمانہ میں ایک مخلص مددگار تھے۔ مسیح موعود کے دعویٰ کے وقت اُنہیں ابتلاء آیا اور اسی ابتلاء میں اُن کا خاتمہ ہوا۔ اُنہوں نے اپنی مخالفت کا اظہار بذریعہ اشتہار بھی کیا اور حضرت