حجۃ اللہ نے نہایت رُفق و ملائمیت سے اُن کو جواب بھی دیا مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ارادہ کر لیا تھا اُن کا خاتمہ انکار پر ہوا اس معاملہ میں مَیں زیادہ کچھ بھی لکھنا نہیں چاہتا ہاں ناظرین کو اسی مجموعہ مکتوبات کے مکتوب نمبر۳۴ اور ۴۰ پر خصوصیت سے توجہ کرنے سے صلاح دیتا ہوں۔ وہ ان مکتوبات کو پڑھیں گے تو اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت حجۃ اللہ نے پہلے سے پیشگوئی کی تھی۔ بہرحال میں حضرت اقدس علیہ السلام کی اس کے بعد کی تحریریں عباس علی شاہ صاحب کے متعلق درج کر دیتا ہوں اور اس کے بعد اور کوئی تحریر ملی یا مکتوبات ملے جو میر عباس علی ہی کے نام ہیں وہ بطور تتمہ اس جلد کے چھاپ دیئے جاویں گے (بہرحال وہ تحریریں یہ ہیں)
’’(۹) حبی فی اللہ میر عباس علی لودہانوی۔ یہ میرے وہ اوّل دوست ہیں جن کے دل میں خداتعالیٰ نے سب سے پہلے میری محبت ڈالی اور جو سب سے پہلے تکلیف سفر اُٹھا کر ابرار اختیار کی سنت پر بقدم تجرید محض للہ قادیان میں میرے ملنے کے لئے آئے۔ وہی یہی بزرگ ہیں میں اس بات کو کبھی بھول نہیں سکتا کہ بڑے سچے جوشوں کے ساتھ اُنہوں نے وفاداری دکھلائی اور میرے لئے ہر ایک قسم کی تکلیفیں اُٹھائیں اور قوم کے منہ سے ہر ایک قسم کی باتیں سنیں۔ میر صاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی اور اس عاجز سے روحانی تعلق رکھنے والے ہیں اور اُن کے مرتبہ اخلاص کے ثابت کرنے کیلئے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو اُن کے حق میں الہام ہوا تھا۔ اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء وہ اس مسافر خانہ میں محض متوکلانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اپنے اوائل ایام میں وہ بیش برس تک انگریزی دفتر میں سرکاری ملازم رہے مگر بباعث غربت و درویشی کے اُن کے چہرہ پر نظر ڈالنے سے ہرگز خیال نہیں آتا کہ وہ انگریزی خوان بھی ہیں لیکن دراصل وہ بڑے لائق اور مستقیم الاحوال اور دقیق الفہم ہیں۔ مگر بایں ہمہ سادہ بہت ہیں۔ اسی وجہ سے بعض موسوسین کے وساوس اُن کے