درج نہیں اور مکاشفات کا تو ذکر تک نہیں اور اُن کے نزدیک مکاشفات اور خوارق اور پیشگوئیاں اور اخبار غیبیہ از قبیل محالات ہیں جن کا وجود ہرگز ممکن نہیں اور جن لوگوں پر وید نازل ہوا وہ لوگ بکلی ان باتوں سے محروم تھے اور وید کی رُو سے ان باتوں کا ظہور میں آنا قطعی طور پر ناجائز اور غیر ممکن ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ ہندوؤں کے محقق تو اپنے وید کو اخبار ماضیہ اور مستقبلہ سے بکلی عاری اور مکاشفات سے بکلی بے نصیب اور خداتعالیٰ کی خالقیت اور حشر اجساد سے بکلی انکاری قرار دیتے ہیں اور مرزا صاحب ایک قدم آگے بڑھ کر ہندوؤں کے ویدوںکی نسبت اُن سب چیزوں کو مانتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ بقول شخص کہ مدعی سست اور گواہ چشت کیا نالائق غلو مرزا صاحب کے بیان میں پایا جاتا ہے جس پر اگر آج کل کے محقق اطلاع پاویں تو مرزا صاحب کو ایک غایت درجہ کا سادہ لوح قرار دیں اور اُن کی باتوں پر قہقہہ مار کر ہنسیں۔ پھر دیکھنا چاہئے کہ مرزا صاحب اپنے اسی مکتوب میںہندوؤں بُت پرستی سے بھی بری قرار دینا چاہتے ہیں یہ کس قدر بے خبری اور لاعلمی مرزا صاحب کی ہے کہ ہندوستان میں پرورش پا کر پھر ہندوؤں کے عقائد سے کس قدر بے خبر اور غافل ہیں۔ اُنہیں معلوم نہیں کہ ہندو لوگ تو عرب کے بُت پرستوں سے اپنے شرک میں کئی درجہ بڑھ کر ہیں کیونکہ عرب کے بُت پرست اگرچہ اپنی مرادیں بتوں سے مانگتے تھے مگراُن کا یہ قول ہر گز نہ تھا کہ دنیا کے خالق و مالک وہ وہی دیوتا ہیں جن کی تصویریں اور مورتیں پتھر یا دہانت وغیرہ سے متشکل کر کے پوجے جاتے ہیں لیکن ہندوؤں کا اصول جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے یہ ہے کہ پرمیشر دنیا کا خالق نہیں ہے بلکہ اُن کے دیوتا دنیا کے خالق ہیں اور اُنہیں سے مرادیں مانگنی چاہئے اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ہندو لوگ اپنے بتوں سے مرادیں مانگنے میں بڑے سرگرم ہیں۔ مرزا صاحب نے شاید کسی تہہ خانہ میں پرورش پائی ہوگی کہ اُن کو اپنی مدت العمر تک یہ بھی خبر نہ ہوئی کہ ہندو لوگ اپنے پُرانے بُت خانوں کے درشن کے لئے کس جوش و خروش میں جایا کرتے ہیں یہاں تک کہ جگناتھ وغیرہ بُت خانوں کے بڑے بڑے بتوں کے راضی اور خوش کرنے کیلئے بعض بعض ہندو اپنی زبانیں بھی کاٹ کر چڑہا دیتے ہیں اور گنگا مائی کے درشن کرنے والے